اپوزیشن اور میڈیا مولانا کے دھرنے کے بڑے بینیفشری

آزادی مارچ کے نتیجے میں مولانا کچھ حاصل کر پائیں گے یا نہیں یہ تو ابھی دیکھنا ہے لیکن اپوزیشن اور میڈیا ابھی سے اس دھرنے کے بینیفیشریز نظر آتے ہیں جن پر حکومتی سختیوں اور پابندیوں میں واضح کمی نظر آئی ہے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا مولانا اپنے لانگ مارچ سے کوئی فائدہ حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ اس سوال کا جواب ابھی آنا باقی ہے تاہم ایک بات تو طے ہے کہ اس کامیاب لانگ مارچ کے ذریعے مولانا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کی چند بڑی سیاسی قوتوں میں سے ایک ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ سے پیدا ہونے والے پریشر کا نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کی مرکزی قیادت پر حکومتی سختیوں میں کمی آئی اور پاکستانی میڈیا پر عائد سینسرشپ میں نرمی آئی جس کے بعد مولانا کا دھرنا لائیو تمام ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایک برس میں پہلی مرتبہ حکومت کو سڑکوں پر سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ ہوئے ہیں۔ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہونے والا جمعیت علماء اسلام ف کا حکومت مخالف آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بعد دھرنے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس دوران، حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی مذاکراتی دور ہو چکے ہیں، لیکن حکومت مخالف آزادی مارچ اب بھی جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق، ’’مولانا فضل الرحمٰن اپنے مطالبات تو تاحال منوا نہیں سکے۔ لیکن، دھرنے کے نتیجے میں وہ حزب اختلاف کے اہم رہنما کے طور پر خود کو منوا چکے ہیں‘‘۔
دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مارچ کے شرکاء کے وفاقی دارالحکومت قیام کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور سوال اٹھا جا رہا ہے کہ یہ لوگ مزید کتنا عرصہ دھرنا دیے رہیں گے۔ تجزیوں، تبصروں میں سوالات اٹھائےجا رہے ہیں کہ اس مارچ کے اپوزیشن، بالخصوص جے یو آئی ف کو کیا مقاصد و فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ حکومت شرکاء کو اسلام اباد سے واپس بجھوانے کے لئے کون سا راستہ لے سکتی ہے۔ حکومت کے ناقدین اور حامی اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک بڑا مجمع اسلام آباد لے آئے ہیں، جو کہ منظم بھی ہے اور تاحال پرجوش بھی۔ مبصرین کے مطابق، بڑی تعداد میں موجود مظاہرین کو طاقت کے استعمال سے اسلام آباد سے نکالنا کسی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا اور حکومت کو بہر صورت مذاکرات اور ’کچھ لو کچھ دو‘ کی بنیاد پر معاملات حل کرنا ہوں گے۔ دھرنے کے میدان کا جائزہ لے کر اور شرکاء سے گفتگو کے بعد یہ اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ طویل قیام کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اور کھانے پینے کا انتظام بھی۔ تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ اور انہوں نے اپنی سیاست کا اہم موڑ بغیر سوچے سمجھے اور راستے کی سختیوں کا اندازہ لگائے بغیر نہیں اٹھایا ہوگا۔ البتہ، انہیں اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے انتہائی اقدام سے گریز کرنا ہوگا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ تا حال اپوزیشن اتحاد حکومت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک نڈر اور طاقتور اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں اور اگر وہ اپنے مطالبات میں سے چند ایک منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انھیں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی طرف سے چھینے گئے اپنے سیاسی دائرہ کار کو واپس حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close