اسٹیو جابز اور بل گیٹس بلین ڈالرز کے مالک کیسے بنے؟

یہ بہت حیرت انگیز ہے، ایک لمحے کے لئے تو آپ بھی چونک جائیں گے کہ سال 1955 میں ایک بچہ مسلم گھرانے میں اور دوسرا انگریزگھرانے میں پیدا ہوتا ہے، لیکن ان دو عام سے بچوں کے لئے دنیا سونے کا نوالہ کیسے بن گئی؟ اپنی ذہانت اور مہارت سے کروڑوں افراد کو اپنا اسیر بنانے والے ان بچوں کو دنیا اسٹیو جابز اور بل گیٹس کے نام سے جانتی ہے۔ اسٹیو کا اصل نام اسٹیون پال جابز ہے اور یہ چوبیس فروری 1955 کو حمص (شام) میں جبکہ ولیم ہنری گیٹس اٹھائیس اکتوبر1955 کو سئیٹل (واشنگٹن) میں پیدا ہوئے۔ یعنی دونوں نے اپنے کیریئر کی شروعات لگ بھگ ایک ہی وقت میں کی۔۔۔ ایک ایپل اور والٹ ڈزنی جیسی مسحور کن کمپنیوں کا مالک بنا تو دوسرے نے مائیکروسافٹ اور کاربز جیسی کمپنیوں کی بنیاد رکھ کر گویا دنیا کو کوزے میں بند کر دیا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ دونوں دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے نکالے جا چکے ہیں اور آج امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی کو اگر فخر ہے کہ بل گیٹس اس کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہے تو ریڈ کالج اسٹیو جابز پر فخر کرتا ہے۔ بلاشبہ دونوں کا شمار انتہائی ذہین بچوں میں ہوتا تھا۔
تاہم بل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی کمپیوٹر ایکسپرٹ مانے جاتے تھے۔ بل کی خواہش تھی کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کچھ ایسا کام کریں کہ پوری دنیا میں ان کا چرچا ہو۔ دونوں کی زندگی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں نے اپنی کمپنیوں کی شروعات اپنے بیسٹ فرینڈز کے ساتھ مل کر کی۔ بل نے مائیکرو سافٹ کمپنی کی بنیاد اپریل 1975 میں، اپنے دوست پال ایلن کے ساتھ مل کر رکھی جبکہ سٹیو جابز نے اپنے دوست سٹیو وازنیک کی مدد سے ٹھیک ایک سال بعد ایپل کو لانچ کیا اور اس طرح دونوں نے ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں بل کے تجربے اور مہارت کی کوئی مثال نہیں ملتی، اسی طرح سٹیو بھی بیک وقت کئی صلاحیتوں کے مالک تھے بلکہ کہا جاتا ہے کہ سٹیو زیادہ کریئٹو تھے اور انھیں مارکیٹنگ کا ہنر بھی آتا تھا لیکن بل کے مقابلے میں وہ اپنے سٹاف کے ساتھ بہت فرینڈلی نہیں ہوتے تھے۔ اب تو ایپل کا ایک بڑا حصہ مائیکروسافٹ کمپنی کے پاس ہے۔۔۔ اسی طرح دونوں کے کام کی نوعیت اگرچہ یکساں تھی لیکن ان دونوں نے نہ تو اکٹھے اور نہ ہی کبھی ایک دوسرے کے لئے کام کیا۔۔۔ البتہ دونوں کمپنیوں نے مختلف ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئرز کے شعبے میں ایک دوسرے کے سہولت کار ضرور رہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے ان دو سپر نیچرل کرداروں کی ذاتی زندگی کو دیکھیں تو اس میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ سٹیو پیدائشی مسلمان تھے اور ان کے والد کا نام عبدالفتاح جندلی تھا۔ تاہم جابز کی پیدائش پر انھیں ایک کیتھولک خاندان نے گود لے لیا، جس کے سربراہ پال جابز تھے۔۔۔ جبکہ بل گیٹس کے والد انگریز تھے اور ان کا نام ولیم ایچ گیٹس تھا، پیشے کے ارتبار سے وہ ایک معروف وکیل تھے۔ بل نے 1994 میں ملینڈا گیٹس سے شادی کی، ان کے تین بچے ہیں۔ دونوں نے مستحق لوگوں کی بھلائی کے لئے ایک مشترکہ ادارہ “ملینڈا اینڈ بل گیٹس فاؤنڈیشن” بھی قائم کر رکھا ہے، جس کی بے پناہ خدمات ہیں۔ دوسری طرف سٹیو اور لورین پاول نے 1991 میں شادی کی اور ان کے چار بچے ہیں۔
اپنے کیرئر اور بزنس کے دوران، دونوں ایک دوسرے کے بڑے حریف مانے جاتے تھے لیکن جنوری 2019 میں سٹیو کی ڈیتھ سے قبل ہی دونوں کی دشمنی ختم ہو چکی تھی۔ دراصل کینسر کی بیماری کی وجہ سے سٹیو نے کمپنی کے سی ای او کے عہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ بہرحال دونوں ہی سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے شعبے کے کنگ ہیں، جنھیں دنیا میں کوئی نہیں ہرا سکتا۔ اب بل نے اگرچہ یہ جنگ جیت لی ہے لیکن ایپل کنگ کے اثاثوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ اگر بل گیٹس کے اثاثوں کی مالیت ایک سو پانچ اعشاریہ سات بلین ڈالرز ہے تو سٹیو جابز کے اثاثوں کا تخمینہ دس اعشاریہ دو بلین ڈالرز لگایا جاتا ہے۔۔۔اور ایک بار نہیں متعدد بار، دونوں کا شمار دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں ہو چکا ہے۔ اگرچہ گذشتہ تین سالوں سے ایمزون کے سی ای او جیف بزوز نمبر ون کی پوزیشن پر براجمان ہیں لیکن 2016 تک بل ہی سرِفہرست تھے۔
بل اور سٹیو کی ایک دوسرے کے بارے میں رائے بھی بہت میٹر کرتی رہی ہے۔ اسٹیو کا خیال تھا کہ بل نے مائیکرو سافٹ کمپنی کی بنیاد اس وقت رکھی جب یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور بل کے خیال میں ایپل ایک جادو ہے، جسے اسٹیو منظرعام پر لایا!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close