چودھری برادران اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں پھوٹ پڑ گئی

چودھری برادران کی مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ رکوانے کے لئے میدان میں انٹری کے بعد حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان سے اپنا کام جاری رکھنے سے معذرت کرلی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چودھری برادران مولانا سے مذاکرات کے حوالے سے مذاکراتی کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لے رہے جس سے کمیٹی کی حیثیت ثانوی نوعیت اختیار کر گئی ہے لہٰذا بہتر ہے کہ اسے ختم کردیا جائے۔
دوسری طرف چوہدری برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کی رابطہ کمیٹی سے ملاقات کے بعد بھی جب لانگ مارچ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تو وزیراعظم عمران خان نے چودھری برادران کو مولانا سے مذاکرات کی ہدایت کی۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ مذاکراتی کمیٹی کی حیثیت ان کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی بھی وزیراعظم نے بنائی تھی اور چودھری برادران کو بھی مولانا سے مذاکرات کی ذمہ داری وزیراعظم نے خود دی ہے لہٰذا جو بھی مصالحاتی فارمولا طے پائے گا اس حوالے سے مذاکراتی کمیٹی کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی اعلان کیا جائے گا۔
اس سے پہلے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم حکومتی مذاکراتی کمیٹی دن میں اپوزیشن کی رابطہ کمیٹی سے مصالحاتی مذاکرات کرتی تھی اور شام کو مولانا کے خلاف بیانات جاری کرنا شروع کر دیتی تھی۔ جس سے مذاکرات آگے بڑھنے کی بجائے خرابی کی طرف چلے جاتے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر معاملات کو مزید خرابی سے بچانے کے لیے وزیر اعظم کو ان کے قریبی رفقاء نے چودھری برادران کی مدد لینے کی تجویز دی۔ چوہدری برادران مولانا فضل الرحمن سے چار دن میں چار ملاقاتیں کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اب تک کوئی ایسا بیان جاری نہیں کیا جس سے مولانا ناراض ہوں۔ چوہدری برادران اور مولانا باقاعدہ طے شدہ منصوبے کے تحت اپنے مذاکرات کے ایجنڈے کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ مولانا وزیر اعظم کے استعفے اور نئے الیکشن کے بڑے مطالبات کر کے عمران خان کو ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور کر رہے ہیں جس کا حتمی نتیجہ جلد سامنے آجائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close