بھارت نے پاسپورٹ ختم کرنے کی شرط کیوں مسترد کردی؟

بھارت نے بابا گرونانک کی 550 ویں برسی کے موقع پر سکھوں کےلیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کی پاکستان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں پاکستانی حکام کے بیانات واضح نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ یکم نومبر کو وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ پاکستان آنے والے سِکھ یاتری کسی بھی شناختی کارڈ کے ساتھ کرتارپور راہداری استعمال کر سکیں گے، انھیں پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بعد ازاں دفتر خارجہ نے بھی یہ اعلان کر دیا تھا۔ اس پر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے شدید ردعمل آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسی کوئی روایت نہیں اور ہم بھی ایسی روایت نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کا تقدس برقرار رکھنا چاہیے۔ بعدازاں سکھوں کے روایتی میزبان اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے بھی بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی مخالفت کر دی تھی۔
تاہم اب پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کی 550 ویں برسی کے موقع پر سکھوں کےلیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے 10 دن پہلے فہرستوں کی فراہمی اور پاسپورٹ کی شرط کے خاتمے کا اعلان کیا تھا لیکن بھارت نے پاکستان کی طرف سے سکھوں کےلیے دی گئیں مراعات کو مسترد کر دیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت قیادت کرتارپور راہداری پر ذہنی الجھاوٴ کا شکار ہے، بھارت نے وزیراعظم پاکستان کی اعلان کردہ مراعات کو مسترد کر کے سکھوں کے جذبات کو مجروح کیا، اگر بھارت مراعات سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے۔
دوسری طرف بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے پاسپورٹ کی شرط ختم کیے جانے سے متعلق ملنے والی اطلاعات واضح نہیں ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری سے متعلق طے پانے والے سمجھوتے میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی فریق اسے یک طرفہ طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ شرط اب بھی برقرار ہے کہ 9 نومبر یا اس کے بعد جو بھی بھارتی شہری کرتارپور جائے گا، اس کے پاس پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی شرط ختم کیے جانے کے حوالے سے زبانی کہانیاں ڈالی جا رہی ہیں جبکہ عملی طور پر ایسا کوئی قدم ابھی تک نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا اعلان صرف اعلان کی حد تک تھا لہذا ہماری طرف سے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 24 اکتوبر کو کرتارپور راہداری کے سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے جس کے مطابق سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کےلیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن ان کے پاس پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کرتارپور آنے والے سکھوں کےلیے دو شرائط ختم کردی ہیں اور اب انہیں نہ ہی پاسپورٹ درکار ہوگا اور نہ انہیں پاکستان میں داخلے سے 10 روز قبل رجسٹریشن کی ضرورت ہوگی۔ جب کہ افتتاح اور گروجی کے 550ویں جنم دن کے موقع پربھی کوئی واجبات وصول نہیں کئے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close