ڈیل کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے

مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے حوالے سے ڈیل کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے بنائے گئے میڈیکل بورڈ نے خود یہ تجویز کیا ہے کہ میاں صاحب کو علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔ لہذا اگر وہ علاج کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں تو اس کو ڈیل کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے انہوں نے کہا کہ انشاللہ سچ غالب آکر رہےگا۔
مریم نواز کا احتساب عدالت لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی لیکن والد دوبارہ نہیں ملیں گے.اس لئے اس وقت سب سے اہم چیز نواز شریف کی صحت ہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی مکمل توجہ صرف نواز شریف کی صحت پر مرکوز ہے۔ انہیں دنیا کے کسی بھی حصے میں علاج میسر ہو ان کو فوری وہاں چلے جا نا چاہئے۔ مریم نے کہا کہ میاں صاحب کی حالت ہسپتال سے گھر شفٹ ہونے کے بعد بھی نہیں سنبھل پا رہی اور ان کے پلیٹلیٹس 28 ہزار سے گر کر 20 ہزار پر آگئے جو کہ ایک بہت ہی تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی حالت خراب نہیں بہت ہی خراب ہے اور اگر ان کا علاج پاکستان میں نہ ہوسکا تو بیرون ملک دنیا کے جس ملک میں بھی ان کے مرض کا علاج میسر ہوں ان کو وہاں ضرور جانا چاہیے۔ مریم نواز نے کہا کہ میں اپنے والد کے ساتھ بیرون ملک اس لیے نہیں جا سکتی کہ کہ میرا پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاست کے لئے پوری زندگی پڑی ہے لیکن والد دوبارہ نہیں ملیں گے۔ اس وقت میری ساری توجہ والد کی صحت اور ان کی تیمارداری پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی والدہ کو کھو چکی ہوں اور اب نواز شریف کی صحت کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لے سکتی۔ میں انہیں نرسز اور ملازمین کے آسرے پر نہیں چھوڑ سکتی۔ مریم نواز نے کہا کہ میرا دن کا مکمل وقت نواز شریف کی دیکھ بھال میں گزر رہا ہے اور آج عدالت کے لیے بھی خصوصی وقت نکال کر آئی ہوں۔ جب مریم سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ میاں صاحب کے باہر جانے کے حوالے سے ڈیل کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے اور انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ میاں صاحب کتنے بیمار ہیں اور اگر وہ باہر جائیں گے تم میڈیکل بورڈ کے کہنے پر جائیں گے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close