لانگ مارچ کی کوریج روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس مکمل بند

وفاقی حکومت نے دھرنے والوں کو پریشان کرتے ہوئے آزادی اظہار رائے پر بھی حملہ کردیا، حکومت نے سوشل میڈیا کے دور میں دھرنے کے شرکاء سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا حق چھینتے ہوئے دھرنے کے مقام سے تقریباً 5 کلومیٹر کے دائرے میں تھری جی اور فور جی سروس بند کردی ہے تاکہ دھرنے کے شرکاء انٹرنیٹ کے ذریعے لانگ مارچ کی آڈیو اور ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر لائیو شیئر نہ کرسکیں۔
مولانا فضل الرحمن کے مطالبات اور دھرنے سے پریشان عمران خان حکومت نےاوچھے ہتھکنڈے کے طور پر گزشتہ دو روز سے تمام موبائل فون کمپنیوں پر دباو ڈال کر دھرنے کے مقام کے قریب تمام موبائل فون کے ٹاورز پر تھری جی اور فورجی انٹرنیٹ سروسز کو بند کر وا دیا ہے حالانکہ جب عمران خان نے دھرنا دیا تھا تو تمام ٹی وی چینلز ان کو سارا دن لائیو دکھاتے تھے۔ لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ عمران کا دھرنا اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ہوا تھا اور مولانا کا دھرنا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو رہا ہے۔ دوسری طرف مولانا کے دھرنے کی کوریج نہ کرنے کے حوالے سے حکومتی اداروں نے پرائیویٹ نیوز چینلز پر دباؤ دوبارہ سے بڑھا دیا ہے۔ شروع کے چند روز میں مولانا کی تقریر لائیو دکھائی جاتی تھی لیکن اب دوبارہ سے ٹی وی چینلز پر یہ دباؤ ہے کہ وہ مولانا کی تقریر براہ راست نشر نہ کریں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں فریڈم آن دی انٹر نیٹ سے متعلق سالانہ رپورٹ ’ کرائسس آف سوشل میڈیا ‘ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان انٹرنیٹ کے لحاظ سے ‘ غیر آزاد ‘ملک ہےاور ہرسال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی سے متعلق 100 بدترین ممالک میں سے 26 ویں نمبر رکھا گیا ہے، پاکستان کی درجہ بندی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی ہے۔ جب کہ عالمی سطح پر پاکستان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی آزادی سے متعلق دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے۔ خطے کے لحاظ سے ویتنام اور چین کے بعد پاکستان تیسرا بدترین ملک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close