مودی نے سلمان تاثیر کے بیٹے کی شہریت منسوخ کروا دی

امریکہ کے ٹائم میگزین میں بھارتی وزیراعظم نریندرہ مودی کے خلاف ایک آرٹیکل لکھنے کی پاداش میں بھارتی حکومت نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے اور مصنف آتش تاثیر کی شہریت منسوخ کر دی ہے اور کیس یہ بنایا ہے کہ انہوں نے اپنی دستاویزات میں والد کی پاکستانی شہریت ظاہر نہیں کی تھی۔ آتش تاثیر نے امریکی جریدے میں اپنے ایک مضمون میں بھارتی وزیراعظم کو ’انڈیاز ڈیوائڈر ان چیف‘ لکھا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ یہی آرٹیکل ان کی بھارتی شہریت منسوخی کا باعث بنا ہے۔
بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آتش تاثیر کو شہریت منسوخی کے حوالے سے جواب یا اعتراض جمع کروانے کا موقع دیا گیا تھا تاہم انہوں نے نوٹس پر جواب جمع نہیں کروایا جس کے بعد ان کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 13 اگست 2019 کو جاری کیے گئے ایک نوٹس میں وزارت داخلہ نے کہا کہ آتش نے اپنے والد کی تفصیلات نہیں بتائیں جو پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر تھے اور صرف اپنی والدہ کی معلومات فراہم کیں جو بھارتی صحافی ہیں اور اس طرح انہوں نے بھارتی شہریت حاصل کر لی۔ بعدازاں 3 ستمبر کو انہیں ایک اور نوٹس جاری کیا گیا جس پر آتش تاثیر نے 6 ستمبر کو اپنا جواب جمع کروایا اور وضاحت دی کہ ان کے والدین سلمان تاثیر اور تلوین سنگھ کی شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے ان کی والدہ ان کی واحد سرپرست ہیں لہذا ان کی شہریت بھارت کی ہی بنتی ہے۔
نیویارک کے بھارتی قونصل خانے کو جمع کروائے گئے جواب میں آتش تاثیر نے بتایا کہ ان کے والدین کے درمیان تعلقات اس وقت استوار ہوئے جب وہ دونوں لندن میں رہائش پذیر تھے اور سلمان تاثیر برطانوی شہری تھے جن کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ بھی موجود تھا۔ واضح رہے کہ حالی ہی میں آتش تاثیر نے ٹائم میگزین میں تحریر کیے گئے اپنے جواب میں بھارتی انتخابات کے وقت نریندر مودی کے خلاف لکھے گئے ایک میں مضمون اپنی شہریت منسوخی کی وجہ کی طرف اشارہ دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اپنی تحریر میں انہوں نے بتایا کہ میرے والد سلمان تاثیر برٹش انڈیا میں پیدا ہوئے جن کی والدہ برطانوی تھیں جبکہ ان کے والد پاکستان بننے کے بعد پاکستانی بنے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ میں پیدا ہوا اور برطانوی شہری ہوں لیکن 2 سال کی عمر سے میں اپنی بھارتی والدہ کے ساتھ انڈیا میں رہائش پذیر تھا جو معروف صحافی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے اکیلے میری پرورش کی اور وہی میری واحد سرپرست تھیں اور میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف انہی کو والدین کی شکل میں پایا۔
آتش تاثیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں اور ان کے والد سلمان تاثیر کے ساتھ ان کے تعلقات بھی پیچیدہ تھے اور بغیر شادی کے پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا اپنے والد سے 21 سال کی عمر تک رابطہ نہیں ہوا تھا۔ آتش تاثیر نے امریکی جریدے میں اپنے لکھے گئے مضمون میں بھارتی وزیراعظم کو ’انڈیاز ڈیوائڈر ان چیف‘ کہا تھا جس کا عنوان تھا کہ ’کیا بھارت نریندر مودی حکومت کے مزید 5 سال برداشت کرسکتا ہے‘۔
مذکورہ مضمون کو بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی کردار کشی کی کوشش قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ لکھاری نے پاکستانی ایجنڈے کی تکمیل کی ہے۔
اس حوالے سے نریندر مودی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحریر کے لکھاری کہہ چکے ہیں کہ ان کا تعلق پاکستان کے سیاسی گھرانے سے ہے جو ان کی ساکھ کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کے مذکورہ اقدام پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ (سی پی جی) جرنلسٹس نے بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک تنقیدی آرٹیکل کے بعد صحافی کی شہری حیثیت کو نشانہ بنانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کو تنقید اور آزادی صحافت برداشت نہیں۔ تاہم بھارتی وزارت داخلہ کی ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ آتش تاثیر کی شہریت ان کے ٹائم میگزین کے لیے لکھے گئے مضمون کے باعث منسوخ کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close