فوج حکومت کا ساتھ دینے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالتی رہے گی

برطانیہ کے ایک معروف ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی سیاست میں طویل مداخلت کی تاریخ رکھنے والی پاکستانی فوج اور اس کی انٹیلی جنس ونگ عدالتی اداروں پر اپنا ماورائے آئین اثر رسوخ استعمال کرکے حکومت کو خاموش حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ ساتھ ہی ساتھ فوج عمران خان کی انتظامیہ پر بھی اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے گی لہذا جب تک پی ٹی آئی کو فوج کی حمایت حاصل ہے اس کی اتحادی چھوٹی جماعتیں حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔
اکنامک انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کی پیش گوئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی پاکستانی فوج تشکیل دیتی رہے گی جبکہ تحریک انصاف حکومت کی سربراہی میں حکومتی اتحاد سے اس انتظام کو تادیر تسلیم کرتے رہنے کی توقع ہے۔ معروف برطانوی اخبار “دی اکنامسٹ” کی جڑواں کمپنی دی اکنامسٹ گروپ کے شعبہ تحقیق و تجزیہ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں سال 2020 سے 2024 تک کے لیے پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی خدوخال کو نمایاں کیا گیا ہے اور پیش گوئی کی گئی کہ تحریک انصاف اپنی حکومتی مدت پوری کرے گی جبکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیوں کے باعث انتشار کی حالت میں رہیں گی۔ رپورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے بتایا گیا کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف حکمت عملی ترتیب دے سکتی ہیں جس کا نتیجہ پارلیمان میں قانون سازی کے عمل میں مسلسل رکاوٹ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اس قسم کے اقدامات سے ان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے لیکن اس سے پی ٹی آئی کی گرفت اقتدار پر ڈھیلی نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہمارے خیال کے مطابق سیاست میں مداخلت کرنے کی طویل تاریخ رکھنے والی فوج (بشمول انٹیلی جنس ونگ) جزوی طور پر ملک کے عدالتی اداروں پر اپنا ماورائے آئین اثر رسوخ استعمال کرکے حکومت کو خاموش حمایت فراہم کرتی رہے گی‘۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اور یہ عمران خان کی انتظامیہ پر بھی اپنا اثر و رسوخ جاری رکھیں گے بالخصوص جب خارجہ و سیکیورٹی پالیسیز کی بات ہوگی‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’جب تک پی ٹی آئی کو فوج کی حمایت حاصل ہے اس کی پارٹنر چھوٹی جماعتیں اپوزیشن میں شامل ہونے کے لیے حکومتی اتحاد نہیں چھوڑیں گی‘۔ دی اکنامسٹ گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’اس عرصے میں ایک جانب جہاں چین پاکستان کا مرکزی اسٹریٹیجک اور معاشی پارٹنر رہے گا وہیں سرحد پار دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر تنازع تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ بنا رہے گا جس کے باعث بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’جہاں معیشت میں بہتری آئی وہیں سیکیورٹی صورتحال مذکورہ عرصے کے دوران عدم استحکام کا ذریعہ بنی رہے گی اور یہ انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں اور تجارتی سرمایہ کاری کے لیے آپریشنل اور اسٹریٹیجک چیلنج بن کر شرح نمو کی صلاحیت کو کمزور کرے گی‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close