مذاکرات صرف ’ٹائم پاس‘ ہیں

جمعیت علما ءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں مسلسل ناکامی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے مولانا سے ہونے والے مذاکرات کو ’ٹائم پاس‘ قرار دے دیا۔جبکہ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن پہلے ہی اپنے خطاب میں مذاکرات کو بے معنی اور غیر ضروری قرار دے چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے گذشتہ روز خطاب میں کہا کہ کسی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس آنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بے معنی آنا جانا نہیں ہونا چاہیے، آؤ تواستعفیٰ ساتھ لے کر آؤ اور اقتدار کے ایوان کو چھوڑنے کا اعلان کرکےآؤ، ہم نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ یہ سفر شروع کیا ہے اور اپنی منزل سے کم پر ہم راضی ہونے والے نہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے جب تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن اراکین نے شور شرابا کیا جس پر پرویز خٹک نے کہا کہ آج دل سے بولنا چاہتا ہوں، کیا آپ لوگ سنیں گے، سن تو لو یار، یہ تماشہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ والے صبر کریں، ابھی بہت دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا، جتنا بیٹھنا ہے بیٹھو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، اگر مولانا کہتے ہیں جرگہ ٹائم پاس کے لیے ہیں تو ہم بھی آپ سے ٹائم پاس کررہے ہیں۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے سارے دور دیکھے ہیں، 40 سال سے سیاست میں ہوں، یہ ملک ہمارا ہے ہم نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں، کوئی ہمیں آرڈیننس جاری کرنے سے نہیں روک سکتا، کیا اپوزیشن نے آئین نہیں پڑھا؟ آئین میں آرڈیننس کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو آئیں ٹیبل پر بیٹھیں، جمہوریت کے نام پر ملک کا بیڑہ غرق کردیا گیا، یہ آج جمہوریت اور قانون کی بات کرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ جمہوریت اور قانون کیا ہے۔
حکومتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مجھے اسی دن کا انتظار تھا کہ پاکستان میں ایماندار لیڈر آئے، اگر آپ پاکستان کی ترقی کے لیے کچھ کرتے تو عوام کے ساتھ ہوتے، ان کے دور میں تو پاکستان ترقی کررہا تھا اس لیے تو عوام نے انہیں مسترد کیا وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ میں اپوزیشن کو کہتا ہوں جائیں جمہوریت کی بات کریں مولانا کو اسمبلی میں لائیں اور پھر جمہوریت کی بات کریں ۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں، 40 سال سے سیاست میں ہوں سارےحالات دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت چھوڑ کر عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جمہوریت کے تمام رموز بخوبی جانتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں بیٹھے ہیں بات نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں مانتے دوبارہ بھی الیکشن ہوا اور پاکستان تحریک انصاف جیتی تو بھی ہم نہیں مانتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close