کیا ڈپٹی سپیکر بچ جائیں گے یا کھڑک جائیں گے؟

بلوچستان کے الیکشن ٹربیونل کے ہاتھوں دھاندلی کے الزامات پر نااہل قرار دئیے جانے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو سپریم کورٹ نے عبوری طورپر بحال تو کردیا لیکن اپوزیشن کی جانب سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے بعد ان کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہوگیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بچ پائیں گے یا کھڑک جائیں گے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد سیکریٹری قومی اسمبلی کو جمع کرا دی گئی ہے۔ قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کا نوٹس رہنما ن لیگ مرتضیٰ جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا نے جمع کرایا، نوٹس پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 7 کے پیرا ج کے تحت جمع کرایا گیا ہے۔ نوٹس میں ڈپٹی اسپیکرکے خلاف آئین اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ قرارداد کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مختلف مواقع پر ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے آئین اور قواعد کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قواعد کی خلاف ورزی کر کے ارکان کا اعتماد کھو چکے ہیں لہذا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف قرارداد پر 7 دن بعد کارروائی شروع کی جائے۔ نوٹس کے 7 دن بعد قرارداد کو کارروائی کے لیے قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کر دیا جائے گا، اسی دن تحریک پیش کرنے کی اجازت ملنے پر اس پر رائے شماری ہو گی اور معاملہ نمٹایا جائے گا۔
اس سے پہلے بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے بے ضابطگیوں کے الزامات پر این اے 265 کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا. نادرہ ریکارڈ کے مطابق یہ پاکستان کا واحد حلقہ تھا جہاں کہ ہاتھوں کے انگوٹھوں کے علاوہ ووٹوں پر پاؤں کے انگوٹھے کے نشانات بھی پائے گئے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حلقہ میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی، ایک لاکھ 14 ہزار میں سے 65 ہزار ووٹ غلط تھے۔ قاسم سوری کی انتخابی کامیابی کو نوابزادہ لشکر رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
نادرا نے کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 میں جیت کر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی بننے والے قاسم سوری کے انتخابات میں ووٹوں کی بائیومیٹرک تصدیق میں سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی تھی۔ نادرا کی جانب سے بلوچستان ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ 7بویارں کھولنے پر 319 عدد کھلے ہوئے بغیر سیل پارسل پائے گئے۔ 15 پولنگ اسٹیشنوں کے خاکی تھیلے تمام بوریوں میں موجود ہی نہیں تھے جبکہ 2 ایسے پولنگ اسٹیشنز کا مواد ملا جن کا کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔
نادرا رپورٹ کے مطابق بائیو میٹرک تصدیق کے دوران کل ایک لاکھ 9 ہزار 118 ووٹوں میں 1533 کائونٹر فائلز پر درج شناختی کارڈ نمبرز غلط پائے گئے جبکہ 123 کائونٹر فائلز پر شناختی کارڈ نمبرز 2 /2 بار درج تھے۔ 333 کائونٹرز فائلز پر ایسے شناختی کارڈ نمبر درج ہے جو اس حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔
نادرا رپورٹ میں حلقے میں کاسٹ کئے جانے والے ووٹوں میں سے صرف 49042 ووٹوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 52756 ووٹوں کے انگھوٹوں کی نشان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ نادرا بلوچستان نے حلقہ این اے 265 کے 2 پولنگ اسٹیشنز اور 52756 ووٹوں کو مسترد کردیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی اپیل پر بلوچستان الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ عبوری طور پر معطل کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close