مولانا کے بیٹے نے گنڈاپور کا الیکشن چیلنج قبول کرلیا

مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کی طرف سے اپنے خلاف الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جے یو آئی اور حکومتی ارکان آمنے سامنے آگئے۔ مولانا فضل الرحمن کے منتیں کر کرکے تھک جانے والے مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمن کو امین گنڈاپور کا چیلنج قبول کرنے کا کہا۔ اور کہا کہ سیاست نہ کریں۔ امین گنڈاپور کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن لڑیں اور جیت کر دکھائیں۔ جواب میں مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے اور ایم این اے اسعد محمود نے چیلنج قبول کرلیا اور کہا کہ امین گنڈاپور استعفیٰ دیں وہ ان کے خلاف الیکشن لڑنے کو تیار ہیں۔ اسعد محمود باربار اسپیکر کو بھی استعفیٰ دلوانے کا کہتے رہے اور کہتے رہے کہ کل ہی الیکشن کرائے جائیں۔ جواب میں امین گنڈا پور نے ایک بار پھر مولانا کو الیکشن لڑنےکا چیلنج دیا جس پر اسعد محمود نے کہا کہ آپ ابھی کھڑے کھڑے استعفیٰ دے۔ میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں۔ آ جاو میدان میں۔ اب پیچھےنہیں ہٹنا۔ اعلان کریں استعفے کا اور کل ہی الیکشن لڑتے ہیں۔ اس کے جواب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ آج بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔ مولانا فضل الرحمان دھرنا ختم کریں، وہ کیمرے لگا کر الیکشن لڑیں گے۔
یاد رہے علی امین گنڈا پور نے گزشتہ عام انتخابات میں این اے 38 ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا فضل الرحمان کو 34 ہزار 779 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ علی امین گنڈاپور نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ اگر الیکشن کوجعلی کہتے ہیں تو ان سے دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کریں۔ جبکہ دوسری مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود نے این اے 37 ٹانک خیبرپختونخواہ سے الیکشن میں حصہ لیا تھااور 28504 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے تھے جبکہ ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے امیدوار حبیب اللہ خان کنڈی نے 16599 ووٹ حاصل کئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close