فروری کے بعد بھی پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنے کاخدشہ

پاکستان کا فروری 2020 کے بعد بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستانی حکام کو امید تھی کہ ستمبر کے مہینے میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا لیکن جب فرانس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تو پتہ چلا کہ پاکستان تو گرے سے بلیک لسٹ میں جانے والا تھا لہذا جب اسے گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا حکومت پاکستان نے شکر ادا کیا۔ ایف اے ٹی ایف نے ستمبر کے مہینے میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو فروری 2020 تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے اور اگر اگر اسلام آباد ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تجویز کردہ تمام تر اقدامات پر عمل کر لے تو اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے۔ تاہم اب پاکستانی حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ فروری میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
اس خدشے کا اظہار قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے اجلاس کو بتایا ہے کہ کچھ ممالک کو ایکشن پلان پر 80 فیصد عمل کرنے پر ہی گرے لسٹ سے خارج کردیا گیا لیکن پاکستان پر 100 فیصد عملدرآمد کےلیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو رسک پروفائل کے باعث دیگر ممالک سے زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر پاکستان کو نہایت اعلیٰ سطح سے دیکھا جارہا ہے حالانکہ افغانستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پانے کےلیے بروقت اقدامات کررہا ہے اور 27 نکاتی ایکشن پلان کے 22 نکات پر جزوی طور پر عمل کیا جاچکا ہے تاہم انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ کے 5 اہداف پر عمل کرنا باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی آئندہ رپورٹ ایشیا پیسیفک گروپ میں 7 دسمبر تک جمع کروائے گا جب کہ اے پی جی اُس رپورٹ پر سوالات اور فیڈ بیک 17 دسمبر تک دے گا جس کے بعد اسلام آباد 7 جنوری تک اپنا رد عمل دے گا۔
بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا پاکستان کی تکنیکی ٹیم جنوری کے تیسرے ہفتے میں ایشیا پیسیفک گروپ کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کرے گی جس کے بعد جوائنٹ ورکنگ گروپ ایف اے ٹی ایف کے پاس اپنی رپورٹ جنوری کے آخر میں جمع کروائے گا۔ مذکورہ رپورٹ پر فروری کے وسط تک فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کرنا چاہیے یا اس فہرست میں برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گرے لسٹ سے اخراج کے حوالے سے پرامید ہے لیکن اس کی کارکردگی کو بیک وقت اے پی جی کے 40 نکاتی ایکشن پلان کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے جس کی حتمی تاریخ اکتوبر 2020 ہے۔ وزیر اقتصادی امور کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ آئی سی آر جی اہداف پر عملدرآمد کی حتمی مدت فروری سے لے کر اے پی جی کی اکتوبر تک کی ڈیڈلائن کے درمیانی عرصے میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان فروری تک کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کر بھی لے تو اس کے آئندہ برس اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود رہنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close