مذاکراتی کمیٹی کے بعد چوہدری برادران بھی ناکام ؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مولانا کو منانے کے لیے بنائی گئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ناکامی کے بعد اب یوں لگتا ہے کہ چودھری برادران بھی مولانا کو لانگ مارچ ختم کرنے پر منانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے ذریعے وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ دو آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کر لیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے، حکومت ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے۔
ذرائع نے بتایا کہ اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف نے تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں اور 12 ربیع الاول (اتوار) تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی اور وفاقی نشستوں سے استعفوں کا آپشن بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن کی اگلی حکمت عملی پر اپنی تیاریاں شروع کرلی ہیں اور سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان مرتب کررہی ہے۔ گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیںمولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔ واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔
اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد ‘وزیراعظم’ سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان ‘جعلی انتخابات’ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ وزیراعظم کی جانب سے مولانا کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری پرویز خٹک کی کمیٹی سے لے کر چودھری برادران کو دیے جانے پر خٹک اور دیگر کمیٹی میمبران ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ مذاکرات کی ذمہ داری صرف ایک کمیٹی کے پاس ہونی چاہئے۔ لیکن اب یہ لگتا ہے کہ پرویز خٹک کے بعد چوہدری برادران بھی مولانا کو منانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close