آئی ایم ایف پروگرام کا ریونیو ہدف پورا کرنے پر زور

قرض پروگرام کی پہلی سہ ماہی کے کامیاب جائزے میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حکومت کو ریونیو کا ہدف حاصل کرنے اور گردشی قرضوں کی کمی سے متعلق حکمت عملی پر موثر عملدرآمد کرنے پر زور دیا ہے۔ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ‘آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ بات چیت کامیاب رہی، حکومت نے ٹیکس چھوٹ کے لیے نہیں کہا، اس کی ضرورت نہیں تھی’۔ تاہم جب اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا ڈبن سانچیز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا۔ عہدیدار کے مطابق آئی ایم ایف کے مشن نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی کو سراہا اور مختصر سے درمیانی مدت تک اس کے تسلسل کی خواہش کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں مشن چاہتا ہے کہ حکومت قانونی طریقے سے اسٹیٹ بینک کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرے۔ ایک سوال کے جواب میں حکومتی عہدیدار نے کہا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے ٹیکس استثنیٰ سے گریز اور ‘ٹیکسوں کی ہم آہنگی اور اس حوالے سے خامیوں کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا کہا’۔ حکومتی عہدیدار نے کہا کہ ٹیکس ہدف پر نظر ثانی نہیں کی گئی نہ ٹیکس چھوٹ مانگی گئی اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔
علاوہ ازیں سینئر عہدیدار نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن سے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں تاہم مشن کی روانگی سے قبل آج (8 نومبر کو) مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ساتھ باضابطہ اختتامی سیشن ہوگا۔ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن نے اب تک قرض پروگرام کے عملدرآمد پر پیش رفت سے آگاہ کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس میں آسانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ساتھ ہی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کی ضمانتی حد ایک کھرب 60 ارب پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ہدایت کی اور وزارت خزانہ و پاور کے ساتھ ٹیرف کے مسائل پر مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن نے پبلک فنانس منیجمنٹ لا پر عملدرآمد میں مزید پیش رفت کرنے کا کہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close