استعفے کی شرط پرمذاکرات نہیں ہونے چاہئیں

وزیراعظم عمران خان کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور چودھری پرویز الہی نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم کے استعفے اور نئے عام انتخابات کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور چودھری پرویز الہی نے عمران خان سے وزیر اعطم ہاوس میں ملاقات کی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کو مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی 5 ملاقاتوں کی تفصیلات بتائیں اور انھیں مذاکرات کے تعطل کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جبکہ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وزیر اعظم کو رہبر کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات بارے تفصیلات بتائیں اور رہبر کمیٹی کی شرائط پر وزیراعظم سے مشاورت کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے بار بار استعفےکی بات ہو رہی ہے، اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔’مولانا ٹائم پاس کر رہے ہیں تو ہم بھی ٹائم پاس کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، ہم نے کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ساتھ ہی انہوں نے کہا 2018 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی تیارہیں لیکن کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں.وزیراعظم نے مزید کہا کہ احتجاج جمہوری حق ہے حکومت کو اس سے خطرہ نہیں، خطرہ ہوتا تو دھرنے والوں کو اسلام آباد نہ آنے دیا جاتا۔
خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اسلام آباد میں ‘آزادی مارچ’ جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے کیونکہ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا.
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔ تاہم وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے استعفیٰ کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔ اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی اس کمیٹی کی متحد اپوزیشن کی بنائی گئی رہبر کمیٹی سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں فریقین میں استعفیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے جبکہ چودھری برادران کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں بھی ثمر آور نہیں ہو سکیں اور حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close