نوازشریف کی اتوار کو لندن روانگی متوقع

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور شہبازشریف اتوار کو قومی پرواز سے لندن جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے علاج کےلیے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں تیاریاں شروع کردی گئی ہیں جبکہ شریف فیملی کی بھی نیویارک میں ڈاکٹر زسے مشاورت جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے لندن میں 2 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا ہے اور ہارلے اسٹریٹ کلینک میں پیر کے لیے اپوائنٹمنٹ لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں ڈاکٹرز کا پینل تشکیل دیدیا گیا ہے۔ نواز شریف کا لندن پہنچتے ہی علاج شروع کر دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز نے لندن میں ڈاکٹرز سے ملاقات کی اور اپنے والد کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس سے انھیں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ دل اور گردوں کے ماہرین سے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق شریف خاندان اور(ن) لیگی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف کا علاج لندن سے کرایا جائے گا۔ بیرون ملک علاج کے لئے پنجاب حکومت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔(ن) لیگی ذرائع کے مطابق نوازشریف کے علاج کے لئے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے لندن میں انتظامات مکمل کرلئے ہیں، نوازشریف کے ساتھ شہبازشریف، مریم نواز کے صاحبزادے اور نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ جائیں گے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق مریم نوازکا بھی نوازشریف کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہونے کا امکان ہے۔ مریم نوازکے پاسپورٹ کی واپسی کے لئے متفرق درخواست عدالت کے روبرو جمع کروائی جائے گی اور استدعا کی جائے گی کہ وہ اپنے والد کی دیکھ بھال کے لئے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں لہذا ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے ان کا پاسپورٹ واپس کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کے معالج ڈاکٹرعدنان نے بھی بیرون ملک علاج کے لئے جانے کا مشورہ دیا اور شریف خاندان کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت سے متعلق رپورٹس ٹھیک نہیں۔والدہ شمیم اختر نے نوازشریف سے کہا کہ بیرون ملک علاج کروایا جائے جب کہ شہبازشریف نے کہا کہ آپ کی صحت کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں، علاج کروانا بہت ضروری ہے۔
ادھر حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے وفاقی کابینہ کو خط لکھا جائے گا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا جس کے بعد سابق وزیراعظم بیرون ملک روانہ ہو سکتے ہیں۔ قبل ازیں سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے شہباز شریف کی طرف سے درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف، علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں لہذا ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ شریف خاندان کی جانب سے نیب کو بھی درخواست کی گئی ہے جس میں شریف میڈیکل سٹی لاہورکے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لئے گئے۔ وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔
خیال رہے کہ سروسز ہسپتال کے سابق میڈیکل بورڈ نے سفر کیلئے نواز شریف کے 50 ہزار سے زائد پلیٹ لیٹس ہونا ضروری قرار دیا تھا، اس وقت نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 27 ہزار سے کم ہے، دل کی ادویات بند کرنے سے بھی سفر میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ سابق میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو جنیٹک ٹیسٹ تجویز کیا تھا جو پاکستان میں نہیں صرف بیرون ملک ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کی اتوار اور پیر کی درمیانی رات لندن روانگی متوقع ہے۔ ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئر ایمبولینس بھی تیار کر لی گئی ہے۔ پرائیویٹ ایئر ایمبولینس 10 نومبر اتوار کی شام پاکستان پہنچے گی۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی چار مختلف ایئر لائنوں سے بکنگ بھی کرائی گئی ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز کے بیٹے ساتھ جائیں گے جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ ہوں گے۔ روانگی کا حتمی پلان ای سی ایل سے نام نکلنے پر فائنل ہوگا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو دو روز قبل سروسز اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا جہاں سے وہ اپنی رہائش گاہ جاتی امرا منتقل ہو گئے تھے، جاتی امرا میں نواز شریف کے علاج کے لیے طبی سہولیات سے آراستہ خصوصی کمرہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close