اصولوں پرکوئی سمجھوتہ نہیں، سلیکٹڈ کو بھگا کر رہوں گا

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو سلیکٹڈ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے،کچھ قوتیں مجھ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ سلیکٹڈ کواقتدارسےنکالنے تک چین سےنہیں بیٹھوں گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ احتساب کےنام پرسیاسی انتقام کی حدکردی گئی۔ یہ کیسااحتساب ہےجو صرف اپوزیشن کاہورہا ہے
مظفر گڑھ میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 25 جولائی 2018 کو بدترین دھاندلی ہوئی اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔سلیکٹرز کو بتایا جائے کہ آپ کے سلیکٹڈ کو عوام نے مسترد کردیا ہے.ان کا مزید کہنا تھا کہ آج پوری اپوزیشن متفق ہے کہ اس سلیکٹڈ کو باہر نکالنا ہے، اس کی آمرانہ سوچ سے جمہوریت اور آئین خطرے میں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے حوالے سے کہا کہ ’آپ کا حشر بھی ہر آمر اور جابر جیسا ہوگا، جو حال آج اس ملک کاہوچکا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے، ٹیکسز کی بھرمار کر کے کہتے ہیں یہ سب پرانے پاکستان کی وجہ سے ہے.انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سلیکٹڈ حکومت کو بے نقاب کرنے کے مشن پر ہوں،حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو بے نقاب کررہا ہوں، اگر عوام چاہے تو ہم اس سلیکٹڈ کو گھر بھیج کر دکھائیں گےان کا مزید کہنا تھا کہ اگرکارکن حکم کریں تو لانگ مارچ بھی کریں گے، کارکن حکم کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو دھرنے کی سیاست کرنی ہے تو وہ بھی کریں گے، ’گو سلیکٹڈ‘ اب ہر طبقے کا نعرہ بن چکا ہے۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ایک سال میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے، نااہل ٹولہ ملک سنبھال سکتا ہے نہ معیشت، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیسا قانون ہے کیس سندھ میں ہوتا ہے لیکن چلتا پنڈی میں ہے، کچھ قوتیں مجھ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ سلیکٹڈکوعوام نےریجیکٹ کردیاہے، عوام کے حقوق کے لیے لڑتا رہوں گا۔ سلیکٹڈ کواقتدارسےنکال کر رہوں گا۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ پہلے بھی خبردار کیا تھا اس ملک میں کٹھ پتلی کو مسلط کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، پھر وہی ہوا 25 جولائی کو سلیکشن ہوئی اور بدترین دھاندلی کی گئی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر پھینکا گیا اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، کسی جماعت نے انتخابات کو تسلیم نہیں کیا۔
بلاول زرداری نے کہا کہ میں نے پہلی تقریر میں عمران خان کو کہا تھا کہ انہوں نے عوام سے کئے اپنے وعدے پورے کیے تو تعریف کریں گے لیکن وعدے پورے نہ کیے تو بھرپور مخالفت ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت پچھلے10 سال کارونا رو رہی ہے اور ہر قسم کا الزام لگا رہی ہے، لیکن ان سے کوئی پوچھے 10 سال پہلےسونے کی قیمت کیا تھی اور آج کیا ہے، 10 سال قبل پیٹرول، آٹا، گھی،چینی اور دیگر اشیائے خورو نوش کس قیمت پر دستیاب تھے، گیس اور بجلی کی قیمتیں کیا تھیں، میں اس سلیکٹڈ حکومت کو بے نقاب کررہا ہوں، اور اگر عوام نے کہا تو پیپلزپارٹی دھرنے کی سیاست بھی کرے گی۔ مظفر گڑھ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں معیشت تباہ کر دی۔ معیشت کے لئے 6 مہینے مانگے ہم نے وہ بھی دئیے۔ ہم نے جمہوریت کے تسلسل کے لئے تعاون کا وعدہ کیا لیکن حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ نااہل اور سلیکٹڈ کا ٹولہ ہے۔ یہ حکومت عوام کے ہر طبقے پر ظلم کر رہی ہے۔ ہم ان کا ظلم برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ اس الیکشن کو کسی بھی پارٹی نے قبول نہیں کیا۔ وہ دن دور نہیں ان سے ہم پورا پاکستان لیں گے اور پورے ملک پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے 18ویں آئینی ترمیم میں صوبوں کو خود مختاری دی، آمرانہ دور میں نکالے گئے نوجوانوں کو نوکریوں پر بحال کیا، ملازمین کو مستقل کیا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور غریبوں کی امداد کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے لیکن موجودہ حکمرانوں نے عوام سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ غربت کم کرنے کیلئے ہم نےانقلابی منصوبے بنائے تھے، ہم آمروں سے لڑے اور دہشت گردوں سے ٹکرائے، ہم نے آپ کوپلیٹ میں سجا کراقتدار دیا لیکن آپ نے ایک سال میں مہنگائی کو کہاں پہنچا دیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی حد کردی گئی، سابق صدر کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ ان کے والد کیلئے نجی ڈاکٹرز کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ آصف زرداری نے پہلے بھی11سال بغیر جرم جیل میں گزارے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close