نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنا این آر او نہیں

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھجوانے کی اجازت دینا این آر او نہیں نواز شریف بیمار ہیں ان سے ہمدردی ہے، نواز شریف کی صحت یا علاج پر کوئی سیاست نہیں کریں گے، پہلے دن سے مؤقف ہے کہ سیاست کو انسانی صحت سے الگ رکھا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پرسخت بیانات دینے سے روکتے ہوئے نرم موقف اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ادارے آزاد ہیں، قومی احتساب بیورو (نیب) کے کہنے پر نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، نیب کی سفارش پر ہی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا، ہم اداروں کی آزادی و خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں۔اجلاس میں بعض رہنماؤں نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا این آر او ہے؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ واضح کر دوں کہ یہ بالکل این آر او نہیں ہے، آپ ہر فورم پر این آر او کے تاثر کی نفی کریں‘۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں ان سے ہمدردی ہے، نوازشریف کا نام علاج کے لیے ای سی ایل سے نکال رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ این آر او تب ہواگر ان کے خلاف مقدمات کی حکومت پیروی نہ کرے، ان کے خلاف مقدمات موجود رہیں گے، صحتمند ہوکر انہیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا، جب وہ صحت مند ہو جائیں گے تو سیاسی میدان میں لڑائی لڑیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ کسی کی بھی صحت سے سیاست کو الگ رکھا جائے اور کسی کی بھی صحت کے حوالے سے کوئی سخت بیان جاری نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ مولانا نے کل کہا انہیں لاشیں چاہئیں، ہم جمہوری لوگ ہیں لاشیں ہم نہیں دیں گے، افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی دھاندلی پر عدالتی کمیشن بنا لیں یا پارلیمانی ہم تیار ہیں، ہم نے چار حلقے کھولنے کا کہا تھا ہم سارے حلقے کھولنے کو تیار ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آزادی مارچ سے متعلق معاملات مذاکراتی کمیٹی دیکھ رہی ہے، مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریز کریں۔
خیال رہے کہ نواز شریف کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔ نواز شریف کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا اس لیے حکومت نیب سے مشاورت کرے گی اور قوی امکان ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close