دھاندلی کی پیداوار حکومت نہیں چلنے دیں گے

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومتی وزراء کا لب ولہجہ مفاہمت نہیں تصادم کی طرف جاتا ہے۔ دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ حکومتی کمیٹی کو کہہ دیا کہ آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر آنا۔
جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی میں جس طرح کی تقریریں کی گئیں لگتا نہیں کہ یہ مفاہمت چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے، کمیٹی میں ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں حکومتی کمیٹی کو کہا ہے کہ ہمارے پاس آنا ہے تو وزیراعظم عمران خان کا استعفی لیکر آنا۔ مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے، ان کی پوری سیاست مخالفین کو چور کہنے پر قائم ہے۔ ۔مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ جعلی اسمبلی کی قرار دادوں کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ جعلی اسمبلی کی قانون سازی جعلی ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، ایڈ ہاک ازم سے ملک نہیں چلتے، ایسے لوگوں کو ملک سے نکالنا ہو گا، ہم ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈہاک ازم پر حکومت اور ملک نہیں چلتے، آخر ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرو، پاکستان کو کہاں لے جا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج نے امن کے لیے قربانیاں دیں، کیا ہماری قربانیاں اس لیے تھیں کہ ایسے لوگ حکمرانی کریں گے؟ان کا مزید کہنا تھا کہ ، ہم آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں،پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کیوں قبول نہیں کی جا رہی۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منی لانڈرنگ کا شور مچایا گیا اور آج چیئرمین ایف بی آر نے کہہ دیا کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، کس قسم کے لوگ مسلط ہو گئے ہیں، اس حکومت کو ہم ایک قبضہ گروپ سمجھتے ہیں۔امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں، تمام سیاسی جماعتیوں کے رہنما ہر روز اپنا موقف کنٹینرز پر دیتے رہتے ہیں۔
امیر جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ امریکا میں یو این اسمبلی اجلاس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جلسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود شرکت کی جبکہ عمران خان امریکا میں بھی ہمیں گالیاں دیتے رہے۔ حکومت والے کشمیر کو بیچ چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close