سائنسدانوں نے ’ایڈز‘ کے وائرس کا سراغ لگا لیا

امریکی ماہرین خاموش موذی مرض کے نام سے پہچانے جانے والے مرض ’ایڈز‘ کا سبب بننے والے ایک نئے وائرس کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایڈز کا سبب بننے والے وائرس ’ہیومن امیون ڈفیسٹی وائرس‘ (ایچ آئی وی) کے پھیلنے میں اہم کردار ادا کرنے والے نئے وائرس کو ماہرین اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔گزشتہ 19 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین موذی مرض کا باعث بننے والے ایک نئے وائرس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سائنس جرنل ’جیڈس‘ کی رپورٹ کے مطابق دوا ساز کمپنی ’ایبٹ‘ کے ماہرین نے امریکا کے ماہرین سے مل کر بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ایچ آئی وی کے پیدا ہونے والے ایک نئے وائرس کا پتہ لگایا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے دریافت کیا گیا نیا وائرس دراصل نیا نہیں ہے بلکہ یہ پرانا ہے تاہم اس وائرس کی نشاندہی اب ہوئی ہے۔ماہرین نے اعتراف کیا کہ نئے وائرس کو ایچ آئی وی یا ایڈز کی تشخیص کے لیے بنائے بئے نئے ضوابط اور ٹیسٹ کے ذریعے دریافت کیا گیا۔
ماہرین نے دریافت ہونے والے نئے وائرس کو ’سب ٹائپ ایل‘ کا نام دیا ہے جو ایچ آئی وی کا سبب بننے والے وائرسز ’گروپ ون ایم‘ کا حصہ ہے ، ’گروپ ون ایم‘ انسانی خون میں موجود ان وائرس کے مجموعے کو کہتے ہیں جو ایچ آئی وی کا سبب بنتے ہیں، وائرس کے مذکورہ گروپ کا نام ’ایم‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ گروپ ایچ آئی وی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ’ایم‘ کا لفظ ’میجر‘ سے لیا گیا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے جو ایچ آئی وی کا نیا وائرس دریافت کیا ہے، وہ دراصل اسی گروپ کا حصہ ہے، تاہم یہ وائرس اب تک سائسندانوں سے چھپا ہوا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایچ آئی وی کا نیا وائرس دنیا بھر کے 60 خون کے نمونوں کے ٹیسٹ کے بعد دریافت ہوا۔ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دریافت ہونے والا مذکورہ وائرس ایچ آئی وی کے پیدا ہونے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ ایچ آئی وی کا سبب بننے والے وائرسز کے مجموعے ’گروپ ون ایم‘ میں مجموعی طور پر 10 کے قریب وائرس ہوتے ہیں اور ان میں سے دریافت ہونے والا نیا وائرس ’سب ٹائپ ایل‘ بھی ایک ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ وائرس پہلے ہی موجود تھا، تاہم سائنسدان اس کی موجودگی سے بے خبر تھے یا پھر اس کی شناخت کرنے میں انہیں مشکلات درپیش تھیں۔مذکورہ تحقیق کو ایچ آئی وی اور ایڈز کی تشخیص میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، اس سے قبل اس موذی مرض کی تشخیص کے حوالے سے 2000 میں آخری بار تحقیق سامنے آئی تھی۔
ایچ آئی وی کی تشخیص ابتدائی طور پر انسان کے خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے، جس کے بعد متاثرہ شخص کے ایڈوانس ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔اس مرض کو خاموش موذی مرض بھی کہا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس کا شکار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close