کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین سب ٹھیک نہیں؟

وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین کچھ روز پیشتر دو ماہ کے طویل وقفے کے بعد ہونے والی ملاقات اور پھر عمران خان کے دو روز کی چھٹی پر جانے کے عجیب فیصلے نے اسلام آباد میں افواہوں کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے۔ افواہ سازوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین سب ٹھیک نہیں اور کہیں نہ کہیں کوئی کچھڑی ضرور پکڑ رہی ہے جو ملک کے سیاسی منظر نامے کو بدلنے کا باعث بھی بن سکتی ہے.
وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک طویل عرصے بعد ہونے والی ملاقات کے دوران باڈی لینگویج کا مشاہدے کرنے والوں نے نوٹ کیا کہ سرکاری ٹی وی کی کوریج میں ایک شخصیت کا مسکراتا ہوا چہرہ غیرضروری طور پر بار بار دکھایا گیا۔ واضح رہے کہ آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان یہ ملاقات کم و بیش دو ماہ بعد ہوئی تھی۔ اس سے قبل دونوں شخصیات کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب کیلئے امریکہ اور سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔ ملاقات کے دوران ایک شخصیت کی گہری سنجیدگی کے بھی مفاہیم نکالے جا رہے ہیں کیونکہ اگلے روز ہی وزیراعظم نے ہفتہ ،اتوار دو روز باضابطہ طور پر سرکاری مصروفیات ترک کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ بتایا گیا کہ وہ یہ 48 گھنٹے ذاتی رہائشگاہ بنی گالہ میں اہل خانہ کے ساتھ گزاریں گے۔ اس دوران نہ تو کوئی سیاسی، تنظیمی اور حکومتی ملاقات ہو گی اور نہ ہی وہ کسی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات اس لئے بھی زیر بحث آئی کیونکہ یہ ملاقات نہ صرف گزشتہ عرصے کے مقابلے میں خاصے وقفے کے بعد ہوئی تھی اور ایسے حالات میں جب ملک بالخصوص داخلی سطح پر بے بقینی، انتشار اور افراتفری کا شکار تھا وفاقی دارالحکومت میں موجود احتجاج کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی جو پوری استقامت سے14دن تک وزیراعظم کا استعفیٰ لینے کے مطالبے پر اپنے قائد کی اطاعت میں ڈٹی رہی۔ اس کے علاوہ بھی بعض ایسے امور تھے جو صرف سیاسی حلقوں میں ہی اضطراب کا باعث نہیں تھے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات ان سے براہ راست متاثر ہو رہے تھے اس لئے ملک کی دونوں اہم شخصیات کی ملاقات توجہ کا مرکز بنی۔ اس طرح وزیراعظم عمران خان کی دو چھٹیاں بھی موضوع بحث بننے کی کم و بیش ایسی ہی وجوہات تھیں اول بات تو یہ کہ وزیراعظم کے بارے میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ وہ ایک انتھک شخصیت ہیں اور بیداری کے عالم میں ان کا زیادہ وقت حکومتی امور نمٹانے میں ہی صرف ہوتا ہے ۔
وہ ملک میں ہوں یا ملک سے باہر ان کی اول ترجیح حکومتی ذمہ داریوں کی انجام دہی ہوتی ہے ایسا بھی ہوا کہ وہ بیرون ملک کی اہم مصروفیات کے بعد طویل مسافت کے دوران جہاز میں بھی فرائض انجام دیتے رہے اور وطن واپس پہنچتے ہی مختلف اجلاسوں کی صدارت اور میٹنگز میں مصروف ہو گئے۔ اس لیے دو چھٹیوں پر مختلف پیرائے کے تبصرے ہو رہے ہیں دوسری طرف ان کے سیاسی مخالفین ان کی چھٹیوں کو سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور طنزیہ انداز میں تبصرے کر رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ مسٹر پرائم منسٹر ان دو دنوں میں آئندہ کی لمبی چھٹیوں کی پلاننگ کر لیں کہاں۔ کب اور کیسے گزارنی ہیں۔
بعض حلقے وزیراعظم کی دو چھٹیوں کو حال ہی میں بلاول بھٹو کی جانب سے دیئے گئے اس بیان کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں جو انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا تھا جس میں انہوں نے انتہائی پراعتماد انداز سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگلے سال تک نئے انتخابات اور نیا وزیراعظم ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) کے حلقے خواجہ محمد آصف کے اس بیان کا بار بار تذکرہ کر رہے ہیں جو انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آن دی فلور دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتوں، مہینوں میں بہت سے چیزیں بے نقاب ہونے والے ہیں ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت کے علم میں نہیں ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کی دھرنے میں تقاریر اور ان کی جانب سے رواں سال کے آخر یا پھر نئے سال کے آغاز پر حکومت کی تبدیلی کی باتیں دہرائی جا رہی ہیں یادر ہے کہ آصف علی زرداری پہلے ہی فروری یا مارچ میں نئے انتخابات کے بارے میں پیش گوئی کر چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close