حکومت اپوزیشن کے ساتھ معاملات کیوں‌ بہتر کر رہی ہے

حکومت نے اپوزیشن کو قانون سازی میں شامل کرنے فیصلہ کرلیا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائیوں کو آسان بنانے کےلیے ‘کچھ لو اور کچھ دو’ کی پالیسی کے تحت کمیٹی تشکیل۔ کمیٹی اسپیکر اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز پر مشتمل ہوگی۔
ایک سال سے زائد چلنے والی پارلیمانی شورشرابے کے بعد بالآخر حکومت کو سمجھ آگئی کہ نظام ریاست تن تنہا اور انا پرستی سے نہیں چل سکتی، عمران خان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمانی امور کو چلانے کےلیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے میں ہی دانشمندی ہے، پارلیمنٹ کو مزید موثر بنانے کے مقصد کے تحت وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تشکیل دے دی گئی، کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز پر مشتمل ہے۔
سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پارٹی کے کور کمیٹی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 2 روز قبل قومی اسمبلی میں ‘کچھ لو اور کچھ دو’ کی پالیسی کے تحت کمیٹی تشکیل دی، جس میں حکومت نے حال ہی میں نافذ کیے گئے 11 صدارتی آرڈیننس واپس لیے جس پر اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لی تھی۔
قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستوں کے درمیان غیر معمولی ‘جنگ بندی’ دکھائی دی اور ماضی کے برعکس دونوں کے ارکان نے تلخ الفاظ کے تبادلے سے گریز کیا۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والے اجلاس میں 7 نومبر کو قومی اسمبلی میں منظور کیے گئے 11 آرڈیننسز کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ اراکین اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو تعمیری بحث کا حق دیے بغیر آرڈیننسز بہت جلد بازی میں منظور کیے گئے تھے۔ اپوزیشن نے حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لیں گے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ واپس لیے گئے کچھ آرڈیننسز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جائیں گے اور کچھ پر ایوان میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close