نوازشریف کو ریلیف ملنے کے بعد تحریک انصاف کا زوال شروع

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نوازشریف کو علاج کی غرض سے غیر مشروط طور پر ملک سے باہر جانے کی اجازت ملنے کو پاکستان میں بڑی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کا باہر جانا ملک میں بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پہلی کڑی ہے۔ آہستہ آہستہ اپوزیشن جماعتوں کے معاملات درست ہو جائیں گے اور تحریک انصاف حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہو کر بالآخر اپنے ہی وزن سے گر جائے گی۔ نئے سیاسی سیٹ اپ میں میاں نواز شریف کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی جس کا بڑا کریڈٹ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو جاتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے غیر مشروط طور پر نکالنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی نواز شریف کی علاج کے لئے بیرون ملک روانگی میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے کو سیاسی تجزیہ کار ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو جو ریلیف ملا ہے وہ اندرونی اور بیرونی طور پر بھی بڑی تبدیلی ہے۔ لگ ایسا رہا کہ اسٹیبلیشمنت اور سول حکومت کے درمیان بھی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ نواز شریف کے جانے سے ملک میں سیاسی بے یقینی بڑھے گی اور اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔ کون کس کی بس میں سوار ہوتا ہے اور کون کہا جاتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔ ایسا سوچنے والوں کا خیال ہے کہ اس نظام کو چلانے والے لوگ اب پریشان ہیں کیونکہ عمران خان کی احتساب کی جو مہم تھی اس سے کچھ نہیں نکلا۔ نواز شریف کے خلاف جو فیصلے آئے، ان میں سے ایک مقدمہ معطل ہے اور دوسرا فیصلہ جج ویڈیو سکینڈل کے بعد مشکوک ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل قائم ہونے والی حکومت کو اب کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اتحادی جماعتیں بھی اب اپنی اپنی رائے دیتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ حکومت درجن بھر ووٹوں سے برقرار ہے اور اگر اتحادی آگے پیچھے ہو گئے تو بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت نے جو بیان دیا اس سے بڑھ کر وزیراعظم پر بد اعتمادی کوئی نہیں ہوسکتی۔ لگ یوں رہا ہے کہ حکومتی اتحادی ان ہاؤس تبدیلی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر بھی اختلافات تو موجود ہیں۔ چند ماہ میں چیزیں مزید کھل کر سامنے آئیں گی۔ اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال بہت بدل چکی ہے۔ جس شدت کے ساتھ اتحادیوں نے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھیجنے کی بات کی اس سے لگ رہا کہ اتحادی اب حکومت مخالف بات کرنا شروع کر چکے ہیں اور جب اتحادی حکومت مخالف بات کرنے پر آجائیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت اب اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے بھی بحث جاری ہے کہ چوہدری برادارن، شریف خاندان کے بدترین سیاسی مخالف تصور کیے جاتے ہیں لیکن جس طرح انہوں نے اس معاملے میں شریف خاندان کے حق میں بات کی اس سے چوہدری بردران کے حکومت سے فاصلے بڑھ گئے ہیں اور ن لیگ کے ساتھ دوریوں میں واضح کمی آئی ہے۔ ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں قومی سیاست کون سی کروٹ لے گی۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود پاکستان کی سیاست نواز شریف کے گرد گھومتی ہے اور مسلم لیگ ن ملک کی بڑی سیاسی قوت تصور کی جاتی ہے۔ نواز شریف نے ملک کی اعلیٰ عدالت سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے خلاف مقدمات کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سرنڈر کرنا شروع کردیا ہے اور آہستہ آہستہ ن لیگ کے ساتھ معاملات بہتر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے ن لیگ کی سیاسی مصالحت میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گی۔ شہباز شریف جس طرح مسلم لیگ ن کو چلانا چاہتے تھے، اب ان کو کافی کھلا ہاتھ مل جائے گا۔ دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی سیاست نواز شریف کے گرد گھومتی ہے اور ان کے ملک باہر جانے کے بعد بھی فیصلے نواز شریف کی مرضی سے ہی ہوں گے۔ جو صورتحال نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے حکومت نے بنائی اس سے ملک میں دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
میاں نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ سے سے غیر معمولی ریلیف ملنے کے بعد یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نواز شریف کو ریلیف ملنا این آر او کا نتیجہ ہے؟ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد این آر او نہ دینے کا بارہا اعلان کرتے نظر آئے اور کئی بار انہوں نے یہ تک کہا کہ حزب اختلاف کے رہنماوں کو این آر او دینا ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے لیکن اب بعض حلقے نواز شریف کو ملنے والے ریلیف کو ڈیل قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا نکتہ نظر مختلف ہے۔ بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ این آر او دینے یا نہ دینے کا اختیار عمران خان کے پاس نہیں اور نہ ہی یہ ان کی مرضی کا محتاج ہے۔ این آر او ہمیشہ فوجی آمروں یا اسٹیبلیشمنٹ نے دیئے ہیں۔ اگر کوئی این آر او ہوا بھی ہے تو یہ عمران خان نے نہیں دیا یہ انہوں نے ہی دیا ہوگا جو دیا کرتے ہیں۔ این آر او نہ دینا وزیراعظم عمران خان کا ایک سیاسی بیانیہ تھا۔ عمران خان آج تک ثابت نہیں کر پائے کہ ان سے این آر او مانگا کس نے ہے؟ یہ ان کا ایک سیاسی بیانیہ تھا جو کہ نواز شریف کو غیر مشروط طور پر علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے کے بعد اب دم توڑ چکا ہے۔
بعض سیاسی پنڈتوں کی رائے میں این آر او کے حوالے سے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن نواز شریف کا ملک سے باہر جانے کا ماحول بننا بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ بہت سے سیاسی تجزیہ کار مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کو ملک میں تبدیل ہوتے سیاسی منظر نامے میں کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ مولانا فضل الرحمن یونہی چپ چاپ اسلام آباد سے دھرنا ختم کرکے نہیں گئے بلکہ مولانا کے ساتھ جو معاملات طے پائے ہیں ان کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔ میاں نواز شریف کو ایک بڑا ریلیف ملنا بھی ممکنہ طور پر مولانا کے دھرنے کا نتیجہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close