بزدار کے معاملے پر کپتان اور سلیکٹرز آمنے سامنے آ گئے؟

اسلام آباد سے آنے والی اطلاع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کے مابین وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ سلیکٹرز وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ناکامی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے نالاں ہیں اور کپتان کے ساتھ ڈیڈلاک کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جو کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کپتان کے ساتھ بارہا اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موجودہ حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہونے کا عمومی تاثر قائم ہے لہذا حکومت کی ناکامی کا تاثر بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے وزیراعظم سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت کا برا تاثر دراصل پنجاب کے وزیر اعلی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہے۔ مقتدر قوتوں کی جانب سے وزیراعظم کو بارہا باور کرایا جاچکا ہے کہ عثمان بزدار کے ہوتے ہوئے پنجاب میں انتظامی معاملات درست نہیں ہو سکتے اور جب تک تحریک انصاف پنجاب میں پرفارم نہیں کرے گی، مرکزی سطح پر بھی حکومت کے تمام اچھے کام کسی گنتی میں نہیں آئیں گے۔ وزیراعظم اور مقتدر حلقوں کے کرتا دھرتا افراد کے مابین ہونے والی گفتگو میں کپتان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کا۔موازنہ سابق وزیر اعلی میاں شہباز شریف سے کیا جاتا ہے لیکن عثمان بزدار کی کارکردگی، قائدانہ صلاحیت، سیاسی اور انتظامی معاملات کی سمجھ بوجھ اور حکومتی معاملات پر کنٹرول شہباز شریف کے مقابلے میں صفر ہے۔
اس کے علاوہ عثمان بزدار پر کرپشن کے الزامات بھی مسلسل عائد کے جا رہے ہیں۔ پنجاب کابینہ کے اکثر وزراء عثمان بزدار کو گھاس نہیں ڈالتے۔ بیوروکریسی بھی آسانی سے انہیں ماموں بنا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ پنجاب کی انتظامی صورتحال خراب تر ہو رہی ہے۔ لہذا کپتان کو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف مرکز میں پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے تو فوری طور پر عثمان بزدار کو گھر بھجوا کر ان کی جگہ ایک ایسے شخص کو وزیر اعلی پنجاب کی ذمہ داریاں سونپی جائیں جو نہ صرف تجربہ کار، مضبوط سیاسی منظر رکھنے والا اور انتظامی معاملات کی شاندار سوجھ بوجھ کا مالک ہو بلکہ وہ اسٹبلشمنٹ کے اچھے مشوروں پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان ان تمام تر مشوروں کے باوجود عثمان بزدار کو ہی پانچ سال تک وزیر اعلیٰ پنجاب قائم رکھنے پر مصر ہیں۔ بعض حلقے بتاتے ہیں کہ عثمان بزدار کو نہ ہٹانے کے پیچھے روحانی مشوروں کا عمل دخل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی نے عمران خان کو بتایا تھا کہ صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کا نام ع سے شروع ہونا چاہیے۔ اسی لئے عارف علوی صدر پاکستان، عمران خان وزیراعظم پاکستان اور ان کے ساتھ عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب ہیں۔ کپتان کے نزدیک حکومت چلانے کے لئے اس ٹرائیکا کو قائم رکھنا اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔ روحانیت پر بے پناہ یقین رکھنے والے عمران خان انہی مصلحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عثمان بزدار کی چھٹی کروانے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کو ناں کر چکے ہیں جس وجہ سے مقتدر حلقے وزیراعظم سے سخت ناراض ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عثمان بزدار کے خلاف کرپشن کے ناقابلِ تردید ثبوت وزیراعظم کو فراہم کیے ہیں، تاہم وزیراعظم روحانی مشوروں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر حال میں عثمان بزدار کو وزیراعلی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ لیکن کپتان کے رویے کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ نے نئے آپشنس پر غور شروع کردیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق عثمان بزدار کے معاملے نے کپتان اور کپتان کے سلیکٹرز کے درمیان محاذ آرائی کی صورتحال پیدا کردی ہے جو ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close