کیا ق لیگ کپتان سے جنرل پاشا والا حساب برابر کر رہی ہے

مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر یہ الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے سیاسی گرو یعنی آئی ایس آئی کے سابق چیف لیفٹینٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ق لیگ کے الیکٹ ایبلز کو توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کروایا اور ق لیگ کو کمزور کیا۔ خیال رہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت کے دوران عمران خان اور تحریک انصاف کو آگے لانے میں پیش پیش رہے اور مختلف جماعتوں سے اہم سیاسی رہنماؤں کو توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کروایا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل پاشا ہی تحریک انصاف کے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے ماسٹر مائنڈ تھے اور ان کے جانے کے بعد تحریک انصاف مسلسل زوال کا شکار ہے۔ دوسری جانب چوہدری پرویز الہی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق میں دوریاں پیدا کرنے کے لیے غلط فہمی پھیلا رہی ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ بیان جاری کرنے سے ایک رات پہلے انہوں نے جیو ٹی وی پر سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے ان کی جماعت سے الیکٹ ایبلز کو توڑ کر انہیں پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل کروایا۔ چوہدری پرویزالہیٰ نے کہا ہے کہ جب انہوں نے اس حوالے سے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو شکایت کی تو جنرل کیانی کے کہنے پر جنرل شجاع پاشا نے ہمیں کھانے پر بلایا اور ہمارے استفسار پر کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جو سیاستدان بھی تحریک انصاف میں گیا، وہ اپنی مرضی سے گیا ہے۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول یہ وضاحت دینے کے بعد جنرل پاشا کوئی اور بات کرنے لگے اور انہیں اتنا بھی یاد نہ رہا کہ کہ ابھی انہوں نے کیا بات ہے اور پھر اچانک انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ توکافی دانا سیاستدان ہیں۔ آپکی بھی عمران خان سے ملاقات نہ کروا دی جائے؟ جنرل پاشا کی اس بات پر چوہدری شجاعت حسین نے فوراََ کہا کہ دیکھیں ہم نے آپ کو پکڑ لیا ہے، آپ تو یہاں بیٹھ کر عمران خان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جس پر جنرل پاشا نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔
جیو کے ساتھ انٹرویو میں جب پرویز الہی سے یہ سوال کیا گیا کہ کون کون سے لوگ ہیں جنہیں جنرل شجاع پاشا پاکستان تحریکِ انصاف میں لے کر گئے تو چوہدری پرویز الہیٰ نے بتایا کہ جتنے بھی اہم لوگ تحریکِ انصاف میں نظر آتے ہیں ان سب کو جنرل پاشا ہی لے گر گئے۔ صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا جہانگیر ترین کو جنرل پاشا ہی تحریکِ انصاف میں لے کر گئے؟ جس پر چوہدری پروزیر الہیٰ نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ وہی لوگ لے کر گئے تھے۔ مزید کریدنے پر پرویز الہی نے کہا کہ علیم خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام اہم لوگوں کو جنرل پاشا پی ٹی آئی میں لے کر گئے تھے۔ چوہدری پرویز الہی کے مطابق جنرل پاشا نے جہانگیر ترین اور علیم خان وغیرہ کو فون کر کے ق لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا کہا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید چوہدری برادران اب وزیراعظم عمران خان سے پاشا۔کے کردار کا بدلہ لے رہے ہیں۔ عوامی سطح پر ایک حکومتی اتحادی کا اتنا سخت بیان غیر معمولی بات ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران اپنی بات سنا بھی دیتے ہیں اور بعد میں گول مول بات کر کے اس پر مٹی ڈالنے کے بھی ماہر ہیں۔ پہلے چوہدری برادران نے اپنے بیانات سے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، اور جمعیت علماء اسلام ف کی قیادت کو خوش کیا اور حکومت کو نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے میں لتاڑا بھی خوب۔ بعد ازاں وزیر اعظم کے سیاسی گرو جنرل پاشا کا قصہ چھیڑ دیا اور جب دیکھا کہ مقصد پورا ہوگیا ہے تو چوہدری پرویز الہی نے یہ بیان دے دیا کہ بعض قوتیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتی ہیں جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔مسلم لیگ ق کل بھی عمران خان کے ساتھ تھی اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ بہرحال معمولی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ ماضی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی وجہ سے ق لیگ ٹوٹی اب ق لیگ ان کے ساتھ حساب برابر کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close