کیا جنرل باجوہ اپنی مدت معیاد میں توسیع نہیں لیں گے؟

اپنے متنازع خیالات کی وجہ سے پابندی کا شکار سینئر تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے. فرائیڈے ٹائمز کے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں انہوں نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے اصل ماسٹر مائنڈ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو فوج کو ایک پروفیشنل ادارے کے طور پر چلتا دیکھنا چاہتے ہیں اور جو آرمی چیف کی مدت معیاد میں توسیع کی روایت کا ادارے کے مفاد میں خاتمہ چاہتے ہیں۔ نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ ایسے لوگ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ جنرل باجوہ اپنے عہدے میں توسیع لینے سے خود ہی انکار کر دیں گے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے جس طرح کے بلند و بانگ دعوے کر کے دھرنا شروع کیا تھا اس کا اچانک یوں ہوا میں تحلیل ہو جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا انہوں نے بغیر کسی یقین دہانی کے اپنا دھرنا ختم کردیا؟۔ سیٹھی لکھتے ہیں کہ شہباز شریف اور آصف زرداری نے خود کو مولانا کے دھرنے سے دور رکھ کر یہ کوشش کی کہ اگر جنرل باجوہ اس لانگ مارچ کے بعد بھی اپنی پوزیشن بچا لیں تو ان پر یہ الزام نہ آئے کہ انہوں نے آرمی چیف کو نکالنے کی کوشش میں کوئی حصہ ڈالا تھا۔
سوال یہ ہے کہ مولانا کے دھرنے کا اصل مقصد کیا تھا اور مولانا نے اپنے دھرنے کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو تختہ مشق کیوں بنائے رکھا؟۔ مولانا کامسلسل ایک ہی موقف تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس تائثر کا خاتمہ کرنا چاہئے کہ وہ ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کی تمام تر ناکامیوں کے باوجود اس کی حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ مولانا کا موقف تھا کہ فوج کا ادارہ ایک قومی ادارہ ہے اور اس کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ آگے چل کر نجم سیٹھی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا دھرنے کے پیچھے چھپا اصل مسئلہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا تھا؟۔ وہ لکھتے ہیں کہ حکومتی وزراء تو اسے نان ایشو قرار دے رہے ہیں اور یہ موقف رکھتے ہیں کہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت معیاد میں توسیع تو ہوچکی ہے اور صدر عارف علوی اس کی تصدیق بھی کر چکے ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا حالانکہ دو سینئر صحافی ایک نوٹیفکیشن کو دیکھنے کا دعوی بھی کر چکے ہیں۔ لیکن نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ عمران خان کا اس معاملے پر رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف انہوں نے آرمی چیف کی مدت معیاد میں تین سال کی توسیع کا اعلان کر رکھا ہے لیکن دوسری جانب وہ اس فیصلے کو ابھی تک سرکاری طور پر نوٹی فائی کرنے کو بھی تیار نہیں جبکہ 29 نومبر آنے میں اب صرف چند روز ہی باقی بچے ہیں۔ ساتھ ہی میں عمران خان کا یہ بھی اصرار ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہیں اور فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جنرل باجوہ اپنے عہدے میں توسیع لینے سے خود ہی انکار کر دیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close