مارخور اور انڈس ڈولفن کو معدومیت کا خطرہ

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ 1800 صفحات پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق زمین پر قدرتی چرند پرند کی نسل میں بہت تیزی سے کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس کی وجہ انسانوں کی کھانے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان مضر اثرات کو روکا جاسکتا ہے لیکن اس کےلیے انتہائی نوعیت کے اقدامات اٹھانے ہوں گے اور انسانوں کو قدرت سے قائم رشتے کو از سر نو طریقے سے استوار کرنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال نسل انسانی کےلیے بھی نہایت خطرناک ہے کیوں کہ ایک زندگی کا دار و مدار دوسری زندگی پر ہے۔ ہم بچپن سے یہ بات پڑھتے آئے ہیں کہ ہم ایک لائف سائیکل کے مرہون منت ہیں جو صدیوں سے جاری ہے۔ اس لائف سائیکل یا زندگی کے چکر کے تحت ہر جاندار کسی دوسرے جاندار کےلیے ضروری ہے۔ اگر اس چکر میں ایک بھی جاندار کم ہوجائے تو اس کا اثر پورے چکر پر پڑے گا ۔
دنیا بھر مختلف اقسام کی جانوروں کی نسلوں کو معدومیت کا سامنا ہے کچھ معدوم ہوچکی کچھ کی بقا کےلیے ماہرین اور ریاستیں اپنی توانائیاں بروئے کار لارہی ہیں، پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کچھ جانوروں کی نسلوں کو معدومیت کا خطرہ ہے، ان میں انڈس دولفن اور مارخور بھی شامل ہے۔ یہ دونوں جانور اب بھی بین الااقوامی ادارے آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔
آئی یو سی این کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انڈس ڈولفن کی پاکستان اور انڈیا میں مجموعی آبادی پانچ ہزار سے بھی کم ہے۔ اسی طرح مارخور کی تعداد پر آئی یو سی این کے اعدادوشمار کی تجدید سنہ 2015 میں کی گئی تھی جس کے مطابق افغانستان، انڈیا، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور پاکستان میں ماخور کی مجموعی تعداد 5754 بتائی گئی تھی۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم نے گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا تھا کہ مارخور اور ڈولفن اس وقت معدومی کے خطرے سے باہر نکل چکی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملکی سطح اس حوالے سے قابل بھروسہ اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ آئی یو سی این ریڈ لسٹ تمام نباتات اور جنگلی حیات کی انواع کے حوالے سے رپورٹ تیار کرتا ہے۔ آئی سی یو این کا ڈیٹا کسی بھی جنگلی حیات کی قسم کی مجموعی صورت حال پر مبنی ہوتا ہے۔
انڈس ڈولفن
دریائے سندھ میں پائی جانے والی ڈولفن مچھلی کی ایک نسل جسے مقامی طور پر بلھن کہا جاتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان میں پائے جانے والی قسم ہے جب کہ اس کو عرف عام میں نابینا ڈولفن بھی کہا جاتا ہے۔ جینیاتی طور پر یہ قسم نابینا نہیں ہوتی بلکہ ایک اندازے کے مطابق دریاؤں میں بڑھنے والی آلودگی اس کے نابینا ہونے کی وجہ ہے۔ 1970ء سے 1998ء تک اس کی اقسام کے بارے کئی متضاد آراء قائم تھیں، لیکن 1998ء میں ان کو دو مختلف قسموں میں تقسیم کیا گیا۔ انڈس ڈولفن ایک ممالیہ مچھلی ہے، عالمی سطح پر انڈس ڈولفن کا شمار دنیا کے نایاب ترین ممالیہ جانوروں میں کیا جاتا ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان کے مطابق اس وقت ملک میں انڈس ڈولفن کی تعداد تقریباً 1800 ہے۔ ڈولفن اس وقت بھی خطرے کا شکار ہے کیوں کہ دریائے سندھ میں موجود اس کی ستر سے اسی فیصد آماجگاہیں تباہ ہوچکی ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں بیراجوں کی تعمیر، آلودگی اور غیر قانونی شکار شامل ہیں۔ تاہم چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر میں اس کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ سندھ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر جاوید مہر کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج تک دریائے سندھ کا علاقہ انڈس ڈولفن کےلیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے رواں برس کیے گئے ایک سروے میں ڈولفن کی تعداد 1419 تھی جب کہ سنہ 2009 میں کیے جانے والے سروے میں یہ تعداد 900 کے لگ بھگ تھی۔ سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے رواں برس کیے گئے ایک سروے میں ڈولفن کی تعداد 1429 بتائی گئی تھی۔ ستر اور ساٹھ کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی آماجگاہیں اٹک پر دریائے سندھ کے مقام سے شروع ہو جاتی تھیں۔ تاریخی طور پر انڈس ڈولفن دریائے ستلج، جہلم، راوی اورچناب میں بھی پائی جاتی تھیں۔
مارخور
مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے، مارخور جنگلی بکرے کی ایک قسم کا چرندہ ہے، یہ قومی جانور دنیا میں جانوروں کی نایاب ترین نوع ہے۔ مارخور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ اُن 72 جانوروں میں شامل ہے جن کی تصاویر عالمی تنظیم برائے جنگلی حیات کے 1976ء میں جاری کردہ خصوصی سکہ جات کے مجموعے میں شامل ہے۔ جنگلی بکرے کی خصوصیات کا حامل یہ خوبصورت جانور گلگت بلتستان کی ٹھنڈی فضاؤں کے علاوہ کشمیر، چترال اور کیلاش کی سرسبز وادیوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ قیمتی اور کم یاب نوع بھارت، افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے کچھ علاقوں میں بھی پائی جاتی،پاکستان میں اس وقت مارخور کی آبادی کا تیسرا بڑا حصہ بستا ہے۔
مارخور پر تحقیق کرنے والے گلگت بلستان کے محکمہ وائلڈ لائف کے ڈی ایف او جبران حیدر کے مطابق پاکستان میں دو دہائیوں کے دوران مارخور کی تعداد زیادہ ہوئی ہے۔ پاکستان میں سنہ 2008 میں یہ تعداد 2575 تھی اور اب یہ تعداد 4500 کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان میں مارخور کی بڑھتی تعداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مارخور کی آماجگاہوں کو محفوظ بنانے، غیر قانونی شکارکے خلاف سخت کارروائیوں کے علاوہ مقامی باشندوں میں اس کے تحفظ کےلیے شعور پیدا کر کے ان کو مارخور کے تحفظ کی سرگرمیوں میں براہ راست شریک کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارخور پاکستان میں ابھی بھی معدومیت کے خطرے سے باہر نہیں نکلا ہے اور اگر اس کے تحفظ کے اقدامات میں کمی ہوئی تو یہ دوبارہ معدوم ہونے کے خطرے کا شکار ہوسکتا ہے۔
مالاکنڈ ڈویثرن میں مارخور کی آماجگاہیں ختم ہوچکی ہیں۔ وہاں سے طویل عرصے سے مارخور کی موجودگی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ڈی آئی خان میں بھی آماجگاہوں میں بڑی کمی آئی ہے اور حالیہ دونوں میں ان کی تعداد کم ہوئی ہے۔کشمیر میں بھی آماجگاہیں ختم ہونے کی رپورٹس موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں کچھ آماجگاہیں محفوظ ہیں جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ اگر کسی بھی قسم کی نوع کی آبادی 90 فیصد سے زائد کم ہو اور اس کی بہت آماجگاہیں کم محفوظ ہوں تو اسے سخت خطرے کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ پچاس سے ستر فیصد آبادی کم ہو تو اس کو خطرے کا شکار قرار دیا جاتا ہے جب کہ جس نوع کی آبادی پچاس فیصد یا اس سے زیادہ کم ہوئی ہو اسے غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔معدوم ہونے سے مراد مکمل خاتمہ ہے جب کہ قدرتی ماحول سے معدوم ہونا اس امر کو کہتے ہیں جب کوئی جانور قدرتی ماحول میں تو ختم ہوچکا ہو مگر کسی نہ کسی طرح محفوظ مقامات پر اس کے کچھ نشانات باقی ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close