دہشت گرد تنظیم سے علیحدہ ہونے والے دو بھائی قتل

کوئٹہ کے علاقے کلی شابو میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے 2 بھائیوں کو قتل کردیا۔ دونوں بھائیوں کو 6، 6 گولیاں لگیں، ایک نے جائے وقوع پر ہی دم توڑ دیا جب کہ دوسرا بھائی اسپتال پہنچ کر فوت ہوا۔
پولیس کے مطابق مسلح ملزمان نے درو خان اور عبدالعزیز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کار میں سوار ہو کر اپنے گھر جارہے تھے۔ واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، جنہوں نے دونوں بھائیوں پر خودکار ہتھیار سے حملہ کیا۔ ابھی تک ملزمان کو گرفتار کرنے میں پولیس ناکام رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں درو خان اور عبدالعزیز کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا، جنہوں نے گزشتہ سال ہی سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف لڑائی ختم کردی تھی۔
خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر سرپرستی صوبائی حکومت نے سیاسی مفاہمتی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد صوبے میں جاری خون ریزی کو ختم کرنا تھا۔
مذکورہ خون ریزی گزشتہ ایک دہائی سے بلوچ علیحدگی پسندوں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کی جارہی تھی۔ جس کے بعد سے اب تک ہزاروں سابق شرپسند ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف سرگرمیاں ترک کرچکے ہیں۔
اس سلسلے میں اس وقت کے صوبائی سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ سیاسی مفاہمتی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کو فی کس 5 لاکھ روپے معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ بڑی تعداد میں فراریوں نے مستقبل میں ہتھیار ڈال کر قومی دہارے میں شامل ہونے اور ملک کے استحکام کےلیے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close