کیا شہباز شریف اور پرویز الہٰی کے درمیان ورکنگ فارمولا بن رہا

تحریر: ماریہ میمن
پچھلے ہفتے یہ تقریبا طے تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ تحریک انصاف بے دلی سے اس کڑوی گولی کو نگلنے ہی والی تھی لیکن ہوا کچھ یوں کہ ویک اینڈ پر اپنے اپنے حلقوں کا چکر لگانے والے پی ٹی آئی ممبران سے ان کے ووٹروں نے سوال کیے کہ کیا خان صاحب نے بھی ڈیل کر لی؟ نواز شریف کو ایسے ہی جانے دے رہے ہیں یا کچھ پیسے بھی ریکور کر رہے ہیں؟
یہ بات سن کر پی ٹی آئی والوں کا ماتھا ٹھنکا۔ خان صاحب تک جب یہ معاملہ پہنچا تو اپنے ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے سات ارب روپے کے بانڈ والی منطق نکالی گئی۔ اس پر قانون ماہرین کی رائے تقسیم تھی اور ملک کے چوٹی کے وکلا کا خیال تھا کہ شاید عدالت میں بانڈ والی شرط کا دفاع کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم سیاسی طور پر اپنے ووٹروں کا مورال بحال اور سیاسی بیانیہ اپنی طرف کرنے کی یہ حکومتی کوشش وقتی طور پر کامیاب ضرور ہوئی۔ کچھ حد تک مسلم لیگ کے ارکان بیک فٹ پر آ بھی گئے، خصوصا جب سوال یہاں تک آگیا کہ میاں صاحب کی جان پیاری ہے یا مال؟
فیصلہ سازوں کو یہ بانڈ والی رکاوٹ ایک آنکھ نہ بھائی۔ تاہم تحریک انصاف والوں کا بھرم رکھنا بھی مقصود تھا۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے۔
حکومت کی منشا کے مطابق ریلیف عدالت سے ملا لیکن شرائط تمام نواز لیگ کی مان لی گئیں۔ اب نواز شریف بنا بانڈ بھرے اپنی مرضی سے جب صحت یاب ہوئے تب ہی لوٹیں گے۔ بانڈ کی جگہ بیان حلفی نے لے لی اور اربوں روپے کا ذکر تو یوں غائب ہو گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ اس ملک میں جب ٹھاننے والے ٹھان لیں تو اسے ممکن بنانے کے لیے تمام ریاستی ستونوں کو بہت مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیوروکریسی ہو تو راتوں و رات پیپر ورک مکمل کر کے فائل کو پہیے لگ جاتے ہیں، پارلیمنٹ اور کابینہ میں اپنے ہی ارد گرد بیٹھے ساتھیوں اور اتحادیوں کا لہجہ بدل جاتا ہے اور میڈیا ہو تو عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے منظم مہم چل جاتی ہے۔ عوام و خواص دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور کرشمہ ساز اپنی کرامات کر جاتے ہیں۔ باخبر حلقے اشارہ دے چکے تھے کہ نواز شریف کا جانا ٹھہر گیا ہے اور ایسا ہی ہوا۔
پچھلے 15 دن کی کارروائی کو ہی دیکھ لیجیے، کیسے کیسے نشیب و فراز آئے۔ کئی بار تو ایسے لگا کہ حقیقی نظریہ شاید نظریہ ضرورت پر غالب آ جائے مگر دیکھنے والوں نے دیکھ لیا ہے کہ پی ٹی آئی کی ہی حکومت میں، انہی کی ناک کے نیچے سے، ان کی خواہش کے برعکس میاں نواز شریف ملک سے باہر جا رہے ہیں اور خان صاحب اور ان کے جانثار ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز اور مشیر گذشتہ ہفتے سے اداس اور روٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ نظریہ ضرورتی گھاؤ کا یہ ان کا پہلا پہلا تجربہ ہے۔ نئے سیاسی بندوبست کے خدوخال چند ہی دنوں میں واضح ہو جائیں گے۔ کیا مریم نواز خاموش رہیں گی؟ کیا نواز شریف وقتی طور پر سیاست سے کنارہ کش رہیں گے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ انھیں کیا حاصل ہو گا جنھوں نے اتنی تندہی سے اپنے ہی چنندہ سیٹ اپ سے اتنی کھلی محاذ آرائی کی۔ اس سیاسی بندوبست نے پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل تک پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ اب سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں کھلے عام عمران خان کے متبادل آپشنز پر بات کی جا رہی ہے۔ سب سے آزمودہ نسخہ مسلم لیگوں کا انضمام ہوا کرتا ہے۔ ہر چند سال بعد اس ملک میں گرینڈ مسلم لیگ کے قیام کا ذکر چھڑ جاتا ہے۔ ووٹ کی عزت مانگنے والی مسلم لیگ کے بجائے اطاعت گزار اور گورننس والی مسلم لیگ۔ اسی لیے اب یہ تھیوری دوبارہ سر اٹھا رہی ہے کہ نئے سیٹ اپ میں شہباز شریف اور پرویز الہٰی کے درمیان ورکنگ فارمولا بن رہا ہے، جس کے تحت شہباز شریف مرکز اور پرویز الہٰی صوبہ سنبھال سکتے ہیں۔ لیکن یہ سوال بہرحال جواب طلب ہے کہ اس انتظام کے لیے کئی پہاڑ سر ہونے ہیں جس میں ان ہاؤس تبدیلی سے لے کر دونوں سابق وزرائے اعلیٰ میں خوش اسلوبی سے اختیارات کی تقسیم شامل کیسے ہو سکتی ہے۔
اس بات میں مگر کوئی ابہام باقی نہیں کہ پرویز الہٰی کا سیاسی اور حکومتی کردار اب بڑھنے ہی کی طرف جا رہا ہے۔ ٹیلی ویژن انٹرویوز سے ویسے کترانے والے پرویز الہٰی نے گذشتہ 72 گھنٹوں میں آدھے درجن انٹرویوز دے کر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا۔ چوہدری شجاعت نے تو یہاں تک بیان دے دیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلے تین سے چھ ماہ میں کوئی اس ملک کا وزیراعظم بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم علیحدہ آنکھیں دکھا رہی ہے۔ حکومتی حلیف تو ایک طرف حکومت کے اپنے وزرا بھی کھلے عام حکومتی موقف کے خلاف بیانات دیتے ہوے پائے گئے ہیں۔ شاید انہی امور پر غور کرنے کے لیے خان صاحب نے دو دن کی چھٹی لی!
عمران خان حکومت کے لیے چیلنج انتظامی بھی ہے۔ سیاسی مخالفین ہی نہیں بلکہ حکومتی بنچ میں بیٹھے ہوئے لوگ، یہاں تک کہ فیصلہ ساز بھی تحریک انصاف کی گورننس کے بارے میں متفکرنظر آ رہے ہیں بلکہ کھلے عام تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔نواز شریف کی روانگی نے تحریک انصاف کے احتساب اور تبدیلی والے بیانیے پر سوالیہ نشان بھی لگائے ہیں اور ایک نئے منظر نامے کی بنیاد بھی رکھ دی ہے جس میں عمران خان کی جگہ بتدریج سکڑتی جا رہی ہے۔
کیا ماضی کی ریت برقرار رہے گی اور اس ملک میں دوبارہ ایک اور منتخب وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گا؟

بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close