کیا وزیر اعظم کوئی بہت بڑا یوٹرن لینے جا رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چند روز پیشتر جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات کے بعد دو روز کی چھٹی پر چلے جانے کے فیصلے نے سوشل میڈیا پر افواہوں کا جو طوفان کھڑا کیا تھا وہ ابھی تھمتا دکھائی نہیں دیتا.
اگر سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کا یقین کریں تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ وزیراعظم دراصل آرمی چیف سے ناراض ہوکر چھٹی پر گئے تو کوئی کہتا ہے کہ بات الٹ ہے۔ وزیر اعظم ناراض نہیں ہوئے، آرمی چیف ناراض ہوگئے۔ کسی نے لکھا ہے کہ کپتان کوئی اہم فیصلہ کرنے والے تھے اس لیے استخارہ کی خاطر دو روز کی چھٹی لینا ضروری تھی اور بس اب ایک بڑا فیصلہ آنے کو ہے۔ کسی نے لکھاکہ وزیراعظم ایک بہت بڑا یوٹرن لینے والے ہیں جو بہت سوں کو چکرا کے رکھ دے گا۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ یوٹرن لینا عظیم لیڈروں کا وطیرہ ہوتا ہے۔ غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کے آفیشل فیس بک پیج پر ان کی جانب سے ڈالے گئے تین فقرے بہت غور طلب ہیں جو انہوں نے تین روز پہلے چھٹی پر جاتے ہوئے پوسٹ کیے۔ انگلش میں لکھے گئے ان فقروں کا ترجمہ کچھ یوں ہے ہے: “کبھی ہمت مت ہارو چاہے کچھ بھی ہو۔ زندگی کتنی بھی مشکل کیوں نہ محسوس ہو، روح کو کتنا ہی مجروح کیوں نہ محسوس کرو، کتنا ہی درد کا احساس کیوں نہ ہو، بس آگے بڑھتے رہو اور ہمت مت ہارو۔ یہ سب ہمیشہ کے لئے نہیں ہے۔ درد وقت کے ساتھ چلا جائے گا”۔ عمران خان کے اس فیس بک میسج کی مختلف توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ عمران شاید کسی گھریلو پریشانی کا شکار ہیں تو کسی نے لکھا کہ انہیں شاید کوئی ایسی بات پتہ چل گئی ہے جس سے وہ بہت زیادہ ذہنی تکلیف میں ہیں اور ان کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ شاید کسی نے ان کے ساتھ کوئی ایسی سخت بات کر دی جس کی وہ بالکل امید نہیں رکھتے تھے۔ بہرحال سچ کیا ہے یہ تو صرف کپتان ہی کو معلوم ہے، باقی سب تو اندازے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close