کیا مولانا کے اسلام آباد دھرنے کا نتیجہ نکلنے والا ہے؟

مولانا فضل الرحمن جس جوش و جذبے سے وزیراعظم کے استعفی کا ایجنڈا لیکراسلام آباد آئے تھے، انکی اچانک واپسی نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے جن کے جواب آنا ابھی باقی ہیں۔کیا مولانا اس لئے استعفی لیے بغیر واپس چلے گئے کہ ان کے ساتھ بھائی لوگوں نے ہاتھ کر دیا اور اپنے وعدوں سے پھر گئے؟ یا پھر مولانا واقعی جس منصوبے کے تحت آئے تھے اس حوالے سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد واپس گئے اور ان کے دھرنے کے نتائج جلد سامنے آنے والے ہیں۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ 27 اکتوبر کو انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے اور ملک میں نئے انتخابات کے اعلان کیلئے اسلام آباد کی تنہا پرواز لی۔ لیکن دو ہفتوں میں انہیں احساس ہوگیا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیاہے جیسا کہ نا تو انہیں ان کے حزب اختلاف کے اتحادی بھرپور قوت کے ساتھ ملے اور نا ہی حکومت بے چین نظر آئی۔
لہذا ان کی 13 نومبر کو واپسی ویسی ہی پراسرار رہی جیسے وفاقی دارالحکومت میں ان کا داخلہ۔ جیسا کہ ان کی جماعت جے یو آئی ف پلان بی کے طور پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج اور دھرنے دے رہے ہیں۔ ان کی تین ماہ کی تیاریوں اور ایک درجن ملین مارچ کے بعد مولانا نے دو مواقع گنوا دئیے۔ پہلا یہ کہ انہیں اپنے اتحادیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مارچ یا اپریل 2020 تک اسلام آباد مارچ ملتوی کرنے کی تجویزمان لینی چاہئے تھی۔ دوسرا یہ کہ انہیں عدالتی کمیشن یا پارلیمانی کمیشن سے با آسانی فیصلہ کروانا چاہئے تھا جس کیلئے حکومت بھی تیار تھی اور حتیٰ کہ تازہ انتخابات کیلئے بھی تیار تھی اگر کمیشن انتخابات 2018 دھاندلی زدہ قرار دے دیتا، اس کا مطلب بھی وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ تھا۔
ایک بات تو یقینی ہے کہ مولانا کا مارچ ون مین، ون پارٹی شو تھا اور مستقبل کی سیاسی پیشرفت اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا مولانا کے ساتھ ہاتھ ہوا یا اس منظر کے پیچھے اصلی دماغ بے نقاب ہوجائے گا۔
جس طرح سے مولانا نے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے مذاکرات کئے، اس سے بھی اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا اور آخر میں وہ کوئی قابل قبول ’فیس سیونگ چاہتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدریوں نے مولانا کو ملاقاتوں میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ عمران کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہی وجہ تھی کہ جس کی وجہ سے وہ مطمئن دکھائی دئیے اور اپنی جماعت کے رہنماؤں کو کہا کہ وہ پریشان نہ ہوں، ہم کہیں نہیں جارہے۔
تاہم دوسری طرف کچھ لوگ ہیں دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ مولانا جس ایجنڈے کے تحت اسلام آباد گئے تھے وہ پورا ہوچکا ہے۔ مولانا دراصل اسٹیبلشمنٹ مخالف ایجنڈا لے کر اسلام آباد گئے تھے اور چاہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ سلیکٹڈ حکومت کی بےجا سپورٹ سے باز آجائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی اسٹیبلشمنٹ مخالف تقاریر کے جواب میں فوجی ترجمان کی جانب سے یہ بیان بھی آ گیا کے فوج سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے اور اگر حکومت اسے الیکشن کی نگرانی کے لیے نہ بلائے تو آرمی کی اپنی یہ خواہش ہے کہ فوج کو الیکشن سے دور رہنا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے یہ بیان دراصل اس بات کا غماز ہے کہ فوج نے الیکشن کے عمل سے اپنے ادارے کو باھر رکھنے کے حوالے سے مولانا کے مطالبہ کو تسلیم کیا ہے۔
اسلام آباد دھرنے سے مولانا کو ایک اور جو کریڈٹ مل سکتا ہے وہ اپنے درجن بھر ملین مارچ کے ساتھ سیاسی موبلائزیشنز ہے۔ گزشتہ 13 دنوں میں وہ یقیناً حزب اختلاف کی مرکزی شخصیت رہے اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے آگے نظر آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close