حویلی لکھا، کشتی الٹنے سے 8 افراد جاں بحق

حویلی لکھا کے علاقے ملحوشیخو کے قریب دریائے ستلج میں کشتی الٹنے سے 25 سے زائد افرادڈوب گئے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 10 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زائد افراد سوار تھے جس کی وجہ سے کشتی حادثے کا شکار ہوئی ۔
دیپالپور میں ملحو شیخو کے قریب پاک بھارت سرحدی علاقہ میں دریائے ستلج میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی جس کی وجہ سے 25 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے۔ ذرائع کے مطابق ڈوبنے والوں میں اکثریت کا تعلق منچن آباد سے ہے، جو جنازے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی اہل علاقہ کی بڑی تعداد اور ریسکیو کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور 10 افراد کو زندہ بچا لیا۔ حادثے میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جن میں جن میں ایک بچہ، 5 خواتین اور 2مرد شامل ہیں،
ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ مریم خان کےمطابق کشتی میں 20 سے 25 افراد سوار تھے جب کہ حادثہ گنجائش سے زیادہ افراد کے کشتی میں بیٹھنے کے باعث پیش آیا کشتی حادثے کے بعد ڈپٹی کمشنر مریم خان کے حکم پر ٹی ایچ کیو ہسپتال حویلی لکھا میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور اور ڈی ایس پی موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق اب تک دریا سے 8 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ کشتی ڈوبنے کے مقام پر دیگر افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو ذرائع کے مطابق کشتی آمدورفت کے لیے استعمال کی جاتی ہے تاہم آج سفر کے دوران اچانک حادثہ پیش آیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے ملاح کو تلاش کیا جا رہا ہے، اس سے معلوم ہو گا کہ کشتی میں کتنے افراد سوار تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کشتی حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عثمان بزدار نے دیگر افراد کی تلاش کے لیے انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 6 افراد مارے گئے تھے۔ اس سے قبل اپریل میں خیبرپختونخوا میں واقع تربیلا ڈیم میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے سے درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close