جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے وزیراعظم سے زیادہ ٹیکس دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قانونی ٹیم کے رکن ایڈووکیٹ بابر ستار نے کہا ہے کہ ان کے موکل کی اہلیہ نے وزیراعظم عمران خان سے زیادہ ٹیکس دیا۔ اس پر جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی اتنی ہی مالی طور پر خود کفیل ہیں جتنے وزیراعظم؟ ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں کسی اور بینچ میں بھی جانا ہے لہٰذا آپ کل یہیں سے دلائل شروع کریں۔
صدارتی ریفرنس کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر 18 نومبر کو سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کی ۔
دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سننے والے سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا ہے کہ قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے اثاثے کیوں چھپائے اور اثاثے خریدنے کے لئے فنڈز کہاں سے آئے؟ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ کیس اثاثے ظاہر نہ کرنے کا کیس ہے، فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے گئے، ریفرنس میں الزام ہے کہ شاید پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا گیا۔ ان الزامات کا جواب دیا جائے۔
سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئےدرخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل بابر ستار کا کہنا تھا کہ چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی کے مطابق ویلتھ سٹیٹمنٹ کا دولت سے کوئی تعلق نہیں، ویلتھ سٹیٹمنٹ اور ریٹرن انکم میں بھی کوئی تعلق نہیں، انکم ٹیکس 2001 انکم سے متعلق ہے نہ اثاثہ جات سے متعلق، ویلتھ سٹیٹمنٹ اثاثوں کو ظاہر نہیں کرتی۔ جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ویلتھ کا انکم کے ساتھ تعلق ہے، بغیر آمدن کے دولت تو نہیں بنتی، آمدن ہوگی تو دولت ہوگی، صرف حکومت کی دولت ریونیو سے آتی ہے، جسٹس فیصل عرب نے مزید کہا کہ اگر کسی نے ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروایا ہو لیکن مکمل آمدن نہ بتائی ہو تو کیا کیا جائے؟ جس پر وکیل بابر ستار نے کہا کہ ویلتھ سٹیٹمنٹ ایسے جمع نہیں ہوجاتی اس بھی کچھ شرائط ہیں، نوٹس میں بتائے گئے وقت میں شہری کو اپنی اور اہل و عیال کی دولت سے متعلق تفصیلات دینا ہوتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایف بی آر کی شرائط کے مطابق ویلتھ سٹیٹمنٹس دینا ہوتی ہیں، کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہری کو خودکفیل بیوی بچوں کو بھی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کرنا ہوتا ہے، میرے خیال میں تو یہ تشریح بنتی ہے۔ جس بر وکیل کا کہنا تھا کہ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے، ایف بی آر کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں ہے کہ خود کفیل بیوی بچوں کی معلومات دی جائیں۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر تاریخ میں ایسا نہیں تو بھی معلومات دینی چاہئیں، ایف بی آر پوچھے تو بتا دیں کہ وہ خودکفیل ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر انکم ٹیکس کمشنر ضرورت محسوس کرے تو معلومات طلب کر سکتا ہے، بابر ستار نے کہا کہ اگر کسی ذریعے سے کمشنر کو معلومات ملتی ہیں تو کمشنز مزید معلومات طلب کرسکتا ہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے مزید کہا کہ سیدھا سا سوال ہے فنڈز کے ذرائع بتائیں،درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی پر سیدھا سا الزام ہے کہ ان کے بیرون ملک اثاثے ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ الزام ہے کہ اثاثے چھپائے گئے جنہیں ظاہر کیا جانا چاہیے تھا، بنیادی نکتہ اثاثوں کے لیے فنڈز کے ذرائع ہیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ ریفرنس کو پڑھیں اور الزامات کی تفصیل دیکھیں، ریفرنس میں صدر ان الزامات پر انکوائری کا کہہ رہے ہیں،جس پر وکیل بابر ستار نے کہا کہ جو مجھے فارم ملا میں نے اس ہی کے مطابق معلومات دیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہم یہاں ویلتھ سٹیٹمنٹ کے فارم کو دیکھنے کے لئے نہیں بیٹھے،ایک الزام ہے آپ اس کا جواب دیں باریک بینیوں میں نہ پڑیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا اصل نقطہ کیا ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔ جسٹس عیسیٰ کے وکیل بابر ستار نے کہا کہ یہ کوئی بنیادی سوال نہیں جو میں کہہ رہا ہوں وہ بنیادی سوال ہے، میرا اصل نقطہ یہ ہے کہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں صرف اپنی آمدن بتانی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید ریمارکس دئیے کہ یہاں ہمارے پاس معاملہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کا نہیں، وکیل نے کہا کہ سارا معاملہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ پر ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ الزام یے کہ آپ کے مؤکل نے بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے، دوران سماعت جسٹس یحی آفریدی نے کہا کہ جو اثاثے آپ کے نہیں آپ اسے کیسے ظاہر کرسکتے ہیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ معاملہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کا نہیں معاملہ باہر موجود اثاثوں سے متعلق ہے، مفروضوں پر مبنی الزامات لگائے گئے آپ ان کا جواب دیں، الزام یہ ہے کہ شائد منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثے بنائے گئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی نوٹس بھیجا گیا، بابر ستارنے کہا کہ کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھر تو بات ہی ختم ہوگئی، وکیل بابر ستار نے کہا کہ پہلے یہ شرط نہیں تھی کہ بیرون ملک جائید اور اثاثے ظاہر کئے جائیں، اب ترمیم کر کے یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص ویلتھ سٹیٹمنٹ میں غلط بیانی کرے تو اسے جرمانہ دینا ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے اپنے خود کفیل بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے تو کوئی جرمانہ نہیں، یہی کچھ شبر زیدی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے، انھوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ کمشنر جائیدادوں کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ نوٹس جاری کرسکتا ہے۔ اگر کوئی غلط بیانی ثابت ہو تو علیحدہ شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ اثاثوں کے دوبارہ تخمینے کے لئے کمشنر پر پابندی ہےلیکن جرمانہ عائد کرنے کے لئے کوئی پابندی نہیں، اثاثوں کے دوبارہ تخمینے کے لئے کمشنر کی جانب سے نوٹس جاری کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن قاضی فائز عیسی کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، وکیل بابر ستار نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کی بیوی کے خود کفیل ہونے سے متعلق وفاق نے خود وضاحت کردی،بتایا گیا ہے کہ قاضی فائز عیسی کی ویلتھ سٹیٹمنٹ اور انکم ٹیکس ریٹرن کی تفصیل خود وفاق نے دی۔ انھوں نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسی کی بیوی نے وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ ٹیکس دیا، جس پر جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا قاضی فائز عیسی کی بیوی اتنی ہی مالی طور پر خود کفیل ہیں جتنا وزیر اعظم۔ دلائل کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں کسی اور بنچ میں بھی جانا ہے لہذا آپ کل یہیں سے دلائل شروع کریں اورکیس کی سماعت19 نومبر تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close