پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس حکومت کا خاتمہ کر سکتا ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے اعلان کے بعد اب یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بالآخر پانچ برس کے طویل انتظار کے بعد اب اس اہم ترین کیس کا فیصلہ اگلے دو ہفتوں میں ہونے جا رہا ہے جو کہ ملکی سیاست کا منظر نامہ ہی مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سرداراے رضا 5 دسمبر 2019 کو اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیں گے۔ کیس کی روزانہ سماعت 26 نومبر سے شروع ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اگر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف آتا ہے تو واضح امکان ہے کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف کے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ فوری طور پر نااہل ہو جائیں گے اور پارٹی کے تمام عہدیداروں بشمول اس کے سربراہ عمران خان فوری طور پر نااہل قرار پائیں گے۔ ایسا ہوا تو عمران خان بھی وزارت عظمی کے عہدے سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے عمران خان کے ساتھ فارن فنڈنگ کے معاملے پر اختلافات کے بعد تحریک انصاف چھوڑ دی تھی۔ 2014 میں انہوں نے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور گھپلوں کے الزامات کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اکاؤنٹس میں تقریبا تیس لاکھ ڈالر کی مالیت کے غیرملکی فنڈز آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ لہذا ان الزامات کی تحقیقات کی جایئں۔
اس کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد مزید کارروئی ایک سال سے زائد عرصے کے لیے تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پی ٹی آئی نے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی تھی کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی کے فنڈز کی جانچ پڑتال سے روکا جائے۔ تاہم فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار کا جائزہ لینے کے بعد یہ کیس سماعت کے لیے دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔ مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس دیکھنے کے لئے الیکشن کمیشن نے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کر دی۔ اس سال مئی میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی طرف سے لگایا گیا یہ اعتراض مسترد کردیا کہ چونکہ اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالا جا چکا ہے لہذا وہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹش میں گھپلوں پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے ہیں۔
اس کیس کے حوالے سی سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو کالعدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا الیکشن ایکٹ کے مطابق تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اگر الزام درست ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پوری جماعت کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیئے جانے کے نتیجے میں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان بھی نااہل ہو جائیں گے۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب اس کیس میں تحریک انصاف کے لیے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور فیصلہ آنے والا ہے۔ دوسری طرف اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے جن 23 خفیہ اکاؤنٹس کی نشاندہی کی تھی وہ سکروٹنی کے عمل میں سٹیٹ بنک آف پاکستان پکڑ چکا ہے لہذا اس کیس میں پی ٹی آئی کا بچنا ناممکن ہے۔
الیکشن کمیشن نے 10 اکتوبر کو اس کیس کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواستوں کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا جس کے خلاف پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی اور ہائی کورٹ نے کیس کو دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر رکھا ہے۔
یاد رہےکہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبرکمیٹی نے گذشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اسلام آباد آفس کے باہر اکٹھے ہوکر جسٹس سرداراے رضا سے مطالبہ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی وہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کریں اور اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کا فیصلہ کریں۔ چیف الیکشن کمشنر نے اپوزیشن کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا ہے لہٰذا اب اس کیس کا فیصلہ ان کی 5 دسمبرکو ریٹائرمنٹ سے پہلے آنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close