اب مرد بھی کے مانع حمل انجیکشن لگا سکیں گے

دنیا میں پہلی بار مردوں کےلیے مانع حمل انجیکشن عام استعمال کے اگلے 6 ماہ میں دستیاب ہوں گے کیوں کہ سائنسدانوں نے اس دوا پر طبی آزمائش کو مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ان مانع حمل انجیکشن کا اثر 13 سال تک برقرار رہے گا اور پھر اس کی طاقت ختم ہونے لگے گی۔ اس انجیکشن کو بھارتی سائنسدانوں نے تیار کیا ہے اور حتمی منظوری کےلیے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کو بھجوایا گیا ہے۔ اسے تیار کرنے والی ٹیم میں شامل سائنسدان ڈاکٹر آر ایس شرما کے مطابق یہ انجیکشن تیار ہیں، اب بس ریگولیٹری منظوری ڈرگ کنٹرولر سے ملنا باقی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا اس پر ٹیسٹ مکمل ہوچکے ہیں اور 303 رضاکاروں پر طبی ٹرائلز کے فیز تھری میں کامیابی کی شرح 97.3 فیصد رہی اور کسی قسم کے مضر اثرات سامنے نہیں آئے، ان انجیکشن کو مردوں کےلیے پہلے مانع حمل دوا قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان انجیکشن کو ایک پولیمر (خامرہ) Steryene Maleic Anhydride سے تیار کیا گیا ہے اور منظوری ملنے پر دنیا میں مردوں کےلیے پہلا مانع حمل طریقہ کار ثابت ہوگا۔تاہم محققین کے مطابق اس کی دستیابی کےلیے ابھی بھی کم از کم 6 ماہ درکار ہوں گے۔
حالیہ برسوں میں مردوں کےلیے ایسی ادویات کی تیاری کے عمل میں تیزی آئی ہے اور اس حوالے سے گزشتہ سال کے آخر میں امریکا میں مردوں کےلیے مانع حمل کریم کی آزمائش شروع کی گئی تھی۔اس وقت امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس وقت مردوں کےلیے مانع حمل طریقہ کار محدود ہیں مگر محفوظ اور بہت زیادہ محفوظ کریم اس خلا کو بھردے گی جس کی پبلک ہیلتھ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔یہ کریم دن میں ایک بار کمر اور کندھوں پر لگائے جائے گی جو کہ ٹسٹوسیٹرون اور پروجسٹرون مرکب پر مشتمل ہوگی اور یہ جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہوگی۔ اس کریم کا ٹرائل 2022 تک مکمل ہونے کا امکان نہیں اور اس دوران ہزاروں مردوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد یہ عام دکانوں کے لیے دستیاب ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close