اک بار پھر باجوہ، آرمی چیف کو بالآخر توسیع مل گئی

میں نے تجھے چن لیا توبھی مجھےچن۔ ملک میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری افواہوں کا طوفان اس وقت تھم گیا جب وزیر اعظم آفس نے 21 نومبر کی شام لیفٹننٹ جنرل ندیم رضا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کرتے ہوئے یہ وضاحت بھی کردی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں بطور آرمی چیف توسیع کا نوٹیفکیشن پہلے ہی 19 اگست 2019 کو جاری کیا جا چکا ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس روز وزیراعظم آفس نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا اعلان کیا تھا اسی روز اس حوالے سے صدارتی نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا۔ تاہم اس معاملے پر کنفیوژن تب پیدا ہوئی جب 12 ستمبر 2019 کو آج ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں صدرعارف علوی نے عاصمہ شیرازی کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا نوٹیفکیشن وزیراعظم کی جانب سے ایڈوائس ملتے ہی جاری کر دیں گے یعنی صدر عارف علوی کو 12ستمبر 2019 تک وزیراعظم کی جانب سے آرمی چیف کے عہدے میں تین سال کی توسیع سے متعلق کوئی ایڈوائس نہیں ملی تھی. وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن 19 اگست 2019 کو جاری ہو گیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اس اعلامیے کو ہی نوٹیفکیشن سمجھا جائے۔ تاہم قانونی اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ 19 اگست کے اس اعلامیے کو دوبارہ تقرری کا نوٹیفکیشن سمجھا جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ آرمی چیف کی تقرری کا باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن صرف اور صرف صدرمملکت جاری کرسکتا ہے اور وہ بھی اس حوالے سے وزیراعظم کی ایڈوائس ملنے کے بعد۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ 19 اگست کو وزیراعظم آفس کی جانب سے توسیع کے اعلامیے کے بعد اس حوالے سے صدارتی نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہو جو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا لیکن پھر سوال یہ ہے کہ اگر آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی 19 اگست کو ہی جاری ہوگیا تھا تو صدر نے 12 ستمبر 2019 کو یہ کیوں کہا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی ایڈوائس وزیر اعظم کی جانب سے ملتے ہی اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیں گے۔ تاہم قانونی نقاط اپنی جگہ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے حوالے سے جاری افواہوں کا خاتمہ ہوتا نظر آتا ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے فوج اور حکومت کے ایک صفحے پر ہونے کے بیانات کی تصدیق ہوتی نظر آتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت اور فوج کے مابین معاملات انہیں دعووں کے مطابق چلتے ہیں جو کہ فوجی ترجمان نے کیے ہیں یا آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان کے لیے حالات مزید مشکل ہوجائیں گے، خصوصا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے فیصلے کے بعد۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close