ثابت ہو گیا عمران خان ذہنی مریض ہیں

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔ وزیراعظم کی تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہاکہ آج تقریر کے بعد یقین ہوگیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں، تقریر سے پہلے وزیراعظم کا میڈیکل چیک اپ ہونا چاہیے، دنیا سن رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی کارکردگی صفر ہے، ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ منڈیلا جیسےعظیم شخص کو اپنے مخالف سے ملا رہے ہیں، یہ شہباز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو منڈیلا جیسے عظیم لیڈر سے ملایا جائے۔ لیگی ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف اشتعال اور نفرت انگیز تقاریر کا مقدمہ چلنا چاہیے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ لاڈلوں کو بچانے کیلئے آرڈیننس کے ذریعے نیب قوانین میں لائی جانے والی تبدیلی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ عمران خان سیاسی انتقام میں اندھے ہو گئے ہیں۔سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر مقابلے کے دعوے کئے جا رہے ہیں ہمت ہے تو اپوزیشن رہنماوں کو آزاد کر کے ان کا مقابلہ کریں.
مریم اورنگزیب کا مزید کہنا ہے کہ پروڈکشن آرڈر کے باوجود لیگی رہنماؤں کو ایوان میں نہیں لایا جا رہا ،یہ آئین پر حملہ ہے ، پنجاب حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔عمران خان جو کر رہے وہ دانتوں سے کھولیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کنٹینرپرپارلیمنٹ پرلعنت بھیجنے والاعمران خان پارلیمنٹ کو کمزور کرنا چاہتا ہے، عمران خان کرکٹ کی مثالیں دیتے ہیں،کرکٹ میں2ٹیمیں ہوتی ہیں،آپ نے ایک ٹیم کوجیل میں ڈال رکھا ہے ۔ ان کا مزید کہنا ہےکہ لیگی رہنما کئی مہینوں سے جیل کاٹ رہے ہیں، شہبازشریف کےخلاف وعدہ معاف گواہ بنائےجارہے ہیں جبکہ سعدرفیق کےپروڈکشن آرڈرجاری ہونے کے باوجود انھیں پیش نہیں کیاجارہا،مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ لیگی رہنماوں پر آج تک ایک الزام ثابت نہیں ہوا۔ عمران صاحب کرکٹ کی مثالیں دیتےہیں، مخالفین کو کھیلنے کا موقع تو دیں، وہ پارلیمان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف کیخلاف جب کچھ نہیں ملتا تو بیوروکریٹس اور سیکرٹری پر دباؤ ڈال کرکیس بنائے جا رہے ہیں، سیاسی مخالفین کے اراکین اسمبلی کو بکتربند گاڑیوں میں عدالت لایا جاتا ہے۔ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران صاحب نےآتے ہی سیاسی مخالفیں کو جیلوں میں بند کرنا شروع کر دیا۔ ن لیگی رہنما سعد رفیق، رانا ثنااللہ، شاہد خاقان عباسی، احد چیمہ آج قید میں ہیں،سعد رفیق کا بزنس ڈکلئیرڈ ہے، 7 نومبر کو سعد رفیق کا پروڈکشن آرڈر جاری ہوا لیکن عمران خان نے پنجاب حکومت کو ہدایت کہ وہ سعد رفیق کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں۔ اس طرح کے ہتھکنڈے پارلیمنٹ پر حملہ ہے جبکہ رانا ثناءاللہ کے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کئے گئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان 5 سال سے الیکشن کمیشن سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں اورہمیں کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہراس کیا جا رہا ہے،تحریک انصاف خود الیکشن کمیشن کو ہراس کر رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ یہ تیسرا پاکستان ہے جو عمران خان بنا رہے ہیں، عمران خان جھوٹی ٹویٹس کرتے ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے اورکرائے کہ ترجمان جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو مشورہ ہے کہ اپنے ترجمانوں کو نواز شریف کا سیکورٹی گارڈ بھرتی کر دیں،کیوںکہ ان ترجمانوں کا یہی کام ہے کہ نواز شریف کیسے چلا، کیا پہنا، شیو کی یا نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج عدالتوں کے آگے مسلم لیگ کی لیڈر شپ آئین اور قانون کی پاسداری کر رہی ہے لیکن دوسری طرف نیب کی جرات نہیں کہ حکومتی کرپشن کے خلاف کاروائی کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان میں جرات ہے تو مخالفین کو جیل سے باہر لائیں اور ان سے مقابلہ کریں، ہمت ہے تو روزانہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور اپنے سارے اثاثے ڈکلیئر کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب ایک کالا قانون ہے، چئرمین نیب بتائیں کہ ایک سال سے لیڈر شپ جیلوں میں ہے لیکن الزام ثابت نہیں ہوا، اس کا جواب چئیرمین نیب کو دینا ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا اپوزیشن قیادت کو قید کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ عمران خان نے اکیلے کھیلنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر نیب کے قوانین میں تبدیلی اپنے بغل بچوں اور لاڈلوں کے لیے کی جار ہی ہے تو قابل قبول نہیں ہے، اگر قوانین میں تبدیلی آرڈیننس کے ذریعے لائی جائے گی تو اس کا مطلب ہو گا کہ دال کالی ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر نیب کے قوانین میں تبدیلی لانی ہے تو آئینی اور قانونی طریقہ کار سے لائی جائے تو قابل قبول ہو گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close