فرانسیسی عدالت میں بطخوں کی جیت

مقدمے بازی ہر ملک میں ہوتے ہیں ، اکثر ہمیں عجیب و غریب مقدمات کے بار میں بھی سننے کو ملتا ہے ایسا ہی کچھ فرانس میں ہوا جب وہاں کی ایک مقامی عدالت میں بطخوں نے ایک دلچسپ مقدمہ جیت لیا جس کے بعد انہیں شور مچانے کی اجازت دے دی گئی۔
فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ڈیکس میں ایک کسان ڈومینک ڈوثے نے اپنے کھیت میں 60 بطخیں پال رکھی ہیں جن کی آواز سے اس کا پڑوسی نالاں تھا۔ پڑوسی نے شمال مغربی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ وہ بطخوں کے شور سے پریشان ہے اور انہیں یہاں سے ہٹایا جائے یا پھر انہیں ذبح کردیا جائے۔
مقدمے پر عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بطخوں کی آوازیں ایک قابل برداشت حد میں ہیں اور اس لیے بطخوں کو فطری آواز نکالنے کی اجازت ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈومینک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اصل میں یہ مقدمہ بطخوں نے جیت لیا ہے کیوں کہ عدالت کا مؤقف ہے کہ بطخوں کی آواز قابل برداشت ہے۔
ڈومینک نے کہا کہ فیصلے کے بعد انہیں اپنی بطخوں کو قربان نہیں کرنا پڑا جس کی انہیں خوشی ہے تاہم بعض دیہاتیوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے گاؤں میں سکون سے رہنا چاہتے ہیں اور شہروں کی شور و غل والی کیفیات آہستہ آہستہ ان کے گھروں تک سرایت کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close