کیا کپتان نے بیک فٹ پر جاکر اپنی وکٹ بچالی؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے حالیہ مثبت خیالات کے اظہار سے لگتا ہے کہ کپتان نے دوبارہ بیک فٹ پر جاکر اپنی وکٹ بچانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کے اقتدار کی اننگز ٹی ٹوئنٹی کی طرح مختصر ہونے کی بجائے ایک ٹیسٹ میچ کی طرح لمبی چل جائے. 21 نومبر کے روز آرمی چیف کے عہدے میں تین سال کی توسیع کے اعلان سے عمران خان نے نہ صرف ملک میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری افواہوں کا خاتمہ کر دیا بلکہ آرمی چیف کے حوالے سے مثبت ترین خیالات کا اظہار کرکے یہ پیغام بھی دے دیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی چلنا چاہتے ہیں اور ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں کہ وہ اپنا بقیہ اقتدار ایک بااختیار وزیراعظم کے طور پر آزادانہ طریقے سے بغیر کسی سہارے کے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے 21 نومبر کے روز آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ایک صحافی سے ہونے والی گفتگو میں کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تو پہلے تین مہینے میں فیصلہ کرلیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہی آرمی چیف رہیں گے۔ انہون نے مذید کہا کہ جنرل قمر باجوہ سے زیادہ متوازن اور ڈیموکریٹ آدمی میں نے فوج میں نہیں دیکھا۔ ارشادبھٹی نے جیونیوز کے شاہزیب خانزادہ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اگر اپنی زندگی میں کسی کو بہترین آرمی چیف کہوں گا تو وہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جو کہ کرتارپور سے وائٹ ہاؤس اور عرب ممالک تک، معیشت کے حوالے سے اور اندرونی و بیرونی سکیورٹی پر حکومت کیلئے آل آؤٹ گئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ نہ ہوتے تو ہم اندرونی و بیرونی محاذ پر اتنا کام نہ کرپاتے اور مجھے فخر ہے کہ وہ میرے آرمی چیف اور سچے سپاہی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ کب کا ہوچکا تھا لیکن اس پر بھی عجیب و غریب افواہیں اڑ رہی تھیں جنہیں ہم انجوائے کررہے تھے۔
تاہم اسٹیبلشمنٹ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کپتان اس بات کو انجوائے کر رہے ہو لیکن دوسری طرف ان افواہوں کی وجہ سے شدید پریشانی تھی۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا اعلان اور پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کرکے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اقتدار میں اپنا وقت پورا کرنا چاہتے ہیں اور ماضی قریب میں انہوں نے اپنی جارحانہ تقاریر اور رویے سے جس غصے اور ناراضی کا اظہار کیا تھا وہ ان کا فوری اور جذباتی ردعمل تھا۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ارشاد بھٹی سے اپنی ملاقات میں کیا جس میں انہوں نے کہا ان کے گزشتہ ہفتے کی تقریر دراصل غصے اور جذبات پر مبنی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی تقریر دراصل نواز شریف کو سات ارب روپے جمع کروائے بغیر علاج کی خاطر بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے کے ردعمل میں تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس واقعے سے ان کا احتساب کا بیانیہ متاثر ہوا اور اس سارے عمل میں اسٹیبلشمنٹ نے میاں صاحب کا ساتھ دیا۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کہتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک حد ہونی چاہیے چاہے وہ احتساب کے نام پر انتقام ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا آصف زرداری اور نوازشریف کے کرپٹ ہونے کا بیانیہ اب پٹ چکا ہے اور نون لیگ اور پی پی پی کے ہمدردوں کا یہ بیانیہ اب غالب آتا جا رہا ہے کہ ان کی جماعت کے لیڈران کو سیاسی مخاصمت کی وجہ سے رگڑا دیا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ عام لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ احتساب کی چکی جسٹس جاوید اقبال یا عمران خان چلا رہے ہیں لہٰذا سارے کا سارا نزلہ اسٹیبلشمنٹ پر آ کر گرتا ہے جس سے ادارے کی غیر جانبداری اور پروفیشنلزم پر بھی حرف آتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہوگیا تھا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے پاکستان کو احتساب کے چکر سے نکالا جائے اور عرصے سے گرفتار رہنماؤں کو بھی کچھ ریلیف دلوایا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ اس کی پاکستان کے لیے یہ بہتر سوچ ہی دراصل کپتان کی ناراضی کا باعث بن گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کے بعد کپتان ایک مرتبہ پھر دل سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوگے ہین یا فارن فنڈنگ کیس کی وجہ سے انہوں نے وقتی طور پر اپنا بیانیہ تبدیل کیا ہے جو کسی بھی وقت بدل سکتا ہے چونکہ یوٹرن لینا عظیم لیڈروں کا شیوہ ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close