دماغی امراض کا بڑا سبب فضائی آلودگی قرار

امریکی ماہرین نے دماغی امراض کا بڑا سبب فضائی آلودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لوگ حافظے کی کمزوری کے ساتھ ساتھ الزائمر جیسے دماغی امراض کا بھی شکار ہورہے ہیں۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے اسکول آف میڈیسن سے وابستہ کلینکل نیورولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اینڈریو پیٹکس کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی اور الزائمر کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جو خواتین فضائی آلودگی کا شکار ہوتی ہیں انہیں صاف ہوا میں سانس لینے والی خواتین کے مقابلے میں الزائمر جیسے دماغی مرض کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کا مطالعہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ فضائی آلودگی لوگوں کے ذہنوں میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے اور یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جن سے حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔ توقع ہے کہ فضائی آلودگی سے حافظے میں کمزوری کو بہتر طور پر سمجھنے کے بعد اس کا تدارک بھی آسانی سے ہو سکے گا۔
ماہرین کے مطابق ٹریفک اور فیکٹریوں کا دھواں، دھول مٹی اور ریت کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوا میں موجود رہتے ہیں جو سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوکر دماغ تک پہنچ جاتے ہیں جن سے الزائمر جیسے امراض پھیلتے ہیں۔
فضائی آلودگی سے پھیلنے والے دیگر امراض اس کے علاوہ ہیں مثلاً استھما، امراض قلب، پھپھڑوے کا مرض اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی اموات اس میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ماہرین نے 998 خواتین پر تحقیق کی جن کی عمریں 73 سال سے 87 سال کے درمیان تھیں۔ تقریباً ایک ہزار خواتین کے دماغ کو اسکین بھی کیا گیا جب کہ ان کی رہائش، علاقوں اور دیگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تحقیق کی گئی جب کہ جن علاقوں میں وہ رہتی تھیں وہاں کی ہوا کو بھی جانچا گیا تاکہ فضا میں موجود ذرات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close