ڈینگی اور زیکا وائرس کا تدارک دریافت

سائنسدانوں نے زیکا اور ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے اہم کامیابی حاصل کرلی، سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وول بیچیا نامی بیکٹیریا، جو وائرس کے مچھروں سے انسانوں میں منتقلی کو روکتا ہے، اس کے ذریعے ان دونوں وبائی امراض کا کامیابی سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹیز آف میلبرن اینڈ شکاگو اور ملائشیا کے انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ میں موجود سائنسدانوں نے کوالالمپور میں کامیابی سے ڈینگی کا پھیلاؤ روک دیا گیا ہے۔وول بیچیا بیکٹیریا کی ایک قسم کو مچھروں میں داخل کر کے انہیں آزاد کر دیا گیا جس کے نتیجے میں ڈینگی کے واقعات میں 40 فیصد کمی آ گئی۔
کوالالمپور کے چھ مختلف علاقوں میں اس بیکٹیریا کے حامل نر اور مادہ مچھروں کو چھوڑا گیا اور دیکھا گیا کہ عام مچھروں سے ملاپ کے بعد پیدا ہونے والوں میں بھی وول بیچیا بیکٹیریا موجود تھا جس کے باعث مرض کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل یونیورسٹی آف میلبورن کے پروفیسر آری ہافمین نے اسی بیکٹیریا کی ایک مختلف قسم کے ذریعے تجربہ کیا تھا لیکن یہ بات سامنے آئی تھی کہ گرم اور مرطوب علاقوں میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
موجودہ کامیاب تجربے کے بعد پروفیسر ہافمین کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ڈینگی کا مرض پھیلا ہوا ہے انہیں اس مرض سے نجات پانے میں بہت مدد ملے گی۔
ایک اور سائنسدان سٹیون سنگنکز کا کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کے لیے بہت بڑی خبر ہے جہاں مچھروں کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں بہت عام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close