چیف جسٹس کے بارے اسٹیبلشمنٹ نواز اینکر کی بد زبانی

اسٹیبلشمنٹ نواز اینکرپرسن سمیع ابراہیم نے بول ٹی وی پر اپنے پروگرام کے دوران آرمی چیف کی توسیع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے لیے انتہائی نامناسب لفظ استعمال کر دیا۔ تاہم کہیں سے دباؤ آنے پر رات دو بج کر دس منٹ پر سمیع نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے چیف جسٹس کھوسہ اور پوری قوم سے معافی مانگ بھی مانگی۔
اسٹیبلشمنٹ سے قربت پر فخر محسوس کرنے والے سمیع ابراہیم اپنے روایتی انداز میں آرمی چیف کی توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کی کارروائی پر تبصرہ کررہےتھے کہ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کو آصف سعید خان۔۔۔ کہہ دیا۔ اگلے ہی لمحے بولے، میں معذرت چاہتا ہوں۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ۔۔۔
اس کے بعد سمیع ابراہیم کا پروگرام جاری رہا۔ اس دوران جسٹس کھوسہ بارے سمیع ابراہیم کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور لوگ طرح طرح کے تبصرے کرنے لگے۔ کچھ کا خیال تھا کہ ان کی زبان سلپ ہوئی ہے جبکہ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا لفظ سمیع ابراہیم نے جان بوجھ کر بولا ہے اور اس کا مقصد چیف جسٹس کی تضحیک کرنا ہے۔
چند گھنٹوں بعد نہ جانے کہاں سے ان پر دباؤ آیا کہ وہ رات دو بج کر دس منٹ پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کے ذریعے باقاعدہ معافی مانگنے پر مجبور ہوگئے۔ واضح رہے کہ سمیع ابراہیم جس ٹی وی چینل کے لیے کام کرتے ہیں اس کو بھی اسٹیبلشمنٹ نواز سمجھا جاتا ہے۔ رات گئے اپنے ٹوئٹ میں سمیع ابراہیم نے مؤقف اپنایا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ اور چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کی زبان سے کھوسہ کی بجائے غلطی سے کوئی اور لفظ نکل گیا اور یہ سب محض زبان کی لغزش کی وجہ سے ہوا جس پر وہ انتہائی شرمندہ ہیں۔ سمیع ابراہیم نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور پوری پاکستانی قوم سے معافی مانگی کہ نہ چاہتے ہوئے، غیر ارادی طور پر ان کی زبان سے ایک نامناسب لفظ ادا ہوا۔ عدلیہ سے متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ بول چینل اور سمیع ابراہیم دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں لہٰذا آرمی چیف کے کیس کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ہی کی جانب سے سمیع ابراہیم پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ چیف جسٹس سے معافی مانگیں جس پر انہوں نے رات گئے بذریعہ ٹوئٹ چیف جسٹس سے معافی طلب کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close