میڈیکل ٹیسٹ بتائے گا کہ نواز شریف کا بون میرو ٹھیک ہے یا نہیں؟

لندن میں میاں نواز شریف کے ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بیماری کا صحیح پتہ چلانے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا ان کا بون میرو صحت مند ہے یا نہیں اور یہ جانچنے کے لیے ان کے بون میرو ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔
نوازشریف کے امراض قلب سمیت دیگر طبی ٹیسٹ کا سلسلہ جاری ہے تاہم ان کے اہل خانہ نے بون میرو ٹیسٹ سے متعلق تشویش کا اظہار کردیاہے۔ نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے بتایا کہ ابھی سب سے اہم میڈیکل ٹیسٹ بون میرو کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا میری درخواست ہے کہ ہر ایک ان کی صحت کے لیے دعا کرے۔ بون میرو کی جانچ سے ظاہر ہوسکتا ہے کہ آیا کسی فرد کی ہڈیوں کا میرو صحت مند ہے اور مقدار پوری ہونے پر خون کے خلیات بنا رہا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یہ طریقہ کار خون اور میرو کی بیماریوں سمیت کینسر سے متعلق مرض کی تشخیص کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نواز شریف کی پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے بون میرو کے نمونے کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ حسین نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف کا علاج اور تشخیص جاری ہے اور برطانیہ میں ڈاکٹروں کے پاس تشخیص اور ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ایک طریقہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ذاتی طور پر مجھے لگتا ہے کہ انہیں امریکا کے ایک معیاری ہپستال لے جانا پڑے گا تاکہ وہ ان کی دیگر بیماریوں کا علاج ہوسکے۔ حسین نواز نے کہا کہ ’میں نے میاں نواز شریف سے متعدد بار اس بارے میں بات کی لیکن ان کے لیے ابھی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ لندن میں اب بھی ٹیسٹ جاری ہیں‘۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کوچند روز بعد انجیوگرام کے لیے ہسپتال میں داخل کرانا ہوگا جس کے بعد امراض دل کا علاج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ انجیوگرام کے بعد امکان ہے کہ ڈاکٹر دل اور دیگر امراض کے علاج کے لیے کوئی طریقہ کار تجویز کریں۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر عدنان خان نے کہا تھا کہ کسی بھی طریقہ کار سے پہلے نواز شریف کے مدافعتی نظام کی بہتری لانی ہوگی۔
خیال رہے کہ حکومت اور عدالتوں نے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ سابق وزیراعظم اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ 19 نومبر کو لندن پہنچے تھے۔ نواز شسریف طبی بنیادوں پر العزیزیہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے 3 ہفتے بعد لندن پہنچے تھے۔ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اپنے خلاف جاری قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات سے متعلق درخواست جمع کرائی کہ عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ’میں لندن میں اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ ہیں اور وہ زیرعلاج ہیں، میں بھی یہاں پر اپنا طبی معائنہ کرارہا ہوں، اس کی بنیاد پر میں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ میری غیر موجودگی کا عذر قبول کریں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے وکیل محمد نواز چودھری، جنہیں پاور آف اٹارنی دیا گیا ہے، وہ ان کی نمائندگی کریں گے۔ واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کے خلاف غیر منقولہ اثاثہ جات کا کیس بنایا ہے۔ آشیانہ اسکیم کے علاوہ رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close