کیا منگل باغ اس مرتبہ واقعی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے؟

جولائی 2016 میں پاکستان کے مطلوب ترین دہشت گرد اور لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کی ایک ڈرون حملے میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں موت کی خبروں کے 40 ماہ بعد اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ زندہ تھا اور افغانستان میں چھپا ہوا تھا. پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع نے افغانستان سے آنے والی اطلاعات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ منگل باغ زندہ تھا اور 22 نومبر کی رات افغان صوبے ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں ماراگیا ہے۔
منگل باغ کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کا سربراہ تھا اور اس کے سر کی قیمت حکومت پاکستان نے دو کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والا بدنام دھشت گرد پاکستان کو متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق منگل باغ 22 نومبر کی شب افغان صوبے ننگر ہار کے علاقے بندر میں امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہوگیا تھا جس کے بعد اسے مقامی طور پر ہی طبی امداد دی جارہی تھی۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور دم توڑگیا۔ پاکستانی طالبان اور انٹیلی جنس ذرائع نے منگل باغ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جبکہ لشکر اسلام نے تاحال اس کی موت کی تصدیق نہیں کی۔
منگل باغ کا اصل نام حاجی عامر منگل باغ تھا اور وہ پاکستان کے زیر انتظام خیبر ایجنسی کے علاقے تحصیل باڑہ کے آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ منگل پہلے ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا لیکن بعد ازاں اس نے اپنا عسکریت پسند گروپ لشکر اسلام کے نام سے تشکیل دے دیا تھا۔ منگل باغ خیبر ایجنسی کے علاقے میں قانون کا دوسرا نام تھا تاہم آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد لشکر اسلام کا سربراہ اور اسکے کارندے افغانستان فرار ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک درجن سے زائد مطلوب پاکستانی دہشتگرد کمانڈر افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close