کیا مریم نوازکسی انڈرسٹینڈنگ کے تحت خاموش ہیں؟

نواز شریف کی شہباز شریف کے ہمراہ لندن روانگی کے بعد سے مریم نواز کی پراسرار خاموشی اور سیاسی منظر نامے سے بالکل غائب ہو جانے کی وجہ سے نون لیگی کارکنان اضطراب کا شکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ مریم خاموشی توڑ کر سامنے آئیں اور ماضی کی طرح ان کی قیادت کریں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مریم نواز ایک انڈرسٹینڈنگ کے تحت خاموش ہیں اور ان کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگر وہ سیاست میں حصہ نہ لیں اور خاموشی اختیار کریں تو ان کو بھی کچھ عرصہ بعد اپنے والد کے پاس بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم شریف خاندان کے قریبی افراد نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے لندن جانے کے لیے لاہور میں اپنے گھر سے روانہ ہوئے تو مریم نواز کا چہرہ آخری مرتبہ ٹی وی سکرینز پر نظر آیا۔ کبھی مریم سیاسی طور پر کافی سرگرم ہوا کرتی تھیں، وہ نہ صرف نیوز چینلز بلکہ ٹوئٹر پر بھی سرگرم تھیں۔ تقریباً روزانہ ہی ٹوئٹس کرنے والی مریم کی آخری ٹویٹ اگست میں دیکھی گئی۔ انہیں آٹھ اگست کو قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار کیا۔ چار نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا لیکن والد کی بیرون ملک روانگی کے بعد سے مریم سیاسی منظر نامے سے بالکل غائب ہیں چنانچہ پارٹی کے کارکنان اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ن لیگ کی سیاست آگے لیجانے کے لیے ان کو باہر نکلنا چاہیے۔ لیگی کارکنان کا کہنا ہے کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں اور عوام بدحال اور پریشان ہیں۔ ایسے میں مریم ہی امید کی ایک کرن نظر آتی ہیں لہذا انہیں عوام کے سامنے آکر بات کرنی چاہیے۔
پارٹی کی سیکریٹری انفارمیشن پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا مریم کہیں غائب نہیں، بس وہ والد اور چچا کی غیر موجودگی میں اپنی دادی کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ ان کی دادی بہت ضعیف ہیں اور نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ گذشتہ ڈیڑھ، دو سال سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ان کی صحت دن بدن بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مریم کی اپنی بھی طبعیت ٹھیک نہیں، ان کو بلڈ پریشر اور گردن کے مہروں میں مسئلہ ہے۔
عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ اِس وقت شدید ذہنی اذیت سے گذر رہی ہیں، انہیں شدید پچھتاوا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو آخری وقت مل نہیں سکیں تھیں کیونکہ وہ جیل میں تھیں۔ تاہم عظمیٰ بخاری شاید یہ بھول گئیں کہ ان تمام واقعات کے بعد مریم نواز نے حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع کی تھی اور سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے مختلف تھے شہروں میں بڑے بڑے جلسے کیے تھے۔
تاہم عظمی کا کہنا تھا کہ مریم لندن میں جاری اپنے والد کے علاج کے معاملے پر اپنے بھائیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مریم کی فی الحال ترجیح ہے کہ وہ عدالت سے اپنا پاسپورٹ واپس لیں اور لندن میں اپنے والد کی دیکھ بھال کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا پاسپورٹ واپس لینے کے لیے اگلے چند روز میں عدالت سے رجوع کریں گی۔ان کی اپنی صحت بھی ٹھیک نہیں۔ جیل میں والد کی بیماری کی وجہ سے انہوں نے بہت زیادہ ذہنی دباؤ لیا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جیل میں مریم نواز کے کندھے پر کیڑے کے کاٹنے سے انفیکشن ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہیں، شاید انہیں سرجری کی ضرورت پڑ جائے۔
تاہم دوسری طرف نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز ایک انڈرسٹینڈنگ کے تحت خاموش ہیں اور ان کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگر وہ سیاست میں حصہ نہ لیں اور خاموشی اختیار کریں تو ان کو بھی کچھ عرصہ بعد اپنے والد کے پاس بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close