لاہور ہائیکورٹ نے مشرف کی درخواست پر وفاق سے ریکارڈ طلب کرلیا

لاہور ہائی کورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوٖظ کرنے کے خلاف دائر درخواست میں وفاقی حکومت کو 3 دسمبر تک مکمل ریکارڈ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ سماعت میں عدالت نے پرویز مشرف کی پیروی کرنے والے وکیل اظہر صدیق کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل کو ریلیف تو مل گیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ سے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناعی بھی دے دیا اور فئیر ٹرائل کا بھی حکم دیا، یہ عدالت کسی بھی بات سے گھبراتی نہیں ہے۔ جس پر وکیل پرویز مشرف نے جواب دیا کہ یہاں جو درخواست ہے وہ تھوڑی مختلف ہے اور ساتھ ہی عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ روکنے کے لیے دائر درخواست منظور ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر خصوصی عدالت تشکیل دی گئی جو غیر قانونی ہے۔ عدالت نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کا کیس سنگین غداری کیس کس طرح بنتا ہے اس حوالے سے آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کی جائے۔
بعدازاں عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو 3 دسمبر تک مکمل ریکارڈ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو روکنے کا حکم دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ ‘حکومت کو موقع ملنے اور نئی استغاثہ ٹیم کو تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے’۔ دوسری جانب پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ خصوصی عدالت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیوں کہ اس کی تشکیل سے قبل کابینہ کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
وکیل نے کہا تھا کہ سنگین غداری کیس کا فیصلہ خصوصی عدالت نے محفوظ کیا ہے جب اس عدالت کی تشکیل پر ہی سوالات اٹھ گئے ہیں تو اس کے فیصلے کی کیا قانونی حیثیت ہو گی۔ جس پر عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو ان 2 نکات پر دلائل پیش کرنے کا حکم دیا تھا کہ جب سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کے خلاف کیس زیر سماعت ہے تو لاہور ہائی کورٹ اس کیس کو کیسے سن سکتی ہے؟ دوسرا یہ کہ پرویز مشرف اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو لاہور ہائی کورٹ میں ان کی درخواست کیسے قابل سماعت ہے؟ یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آج ہونے والی خصوصی عدالت کی سماعت میں سنگین غداری کیس کا محفوط شدہ فیصلہ نہیں سنایا گیا تھا بلکہ پرویز مشرف کو 5 دسمبر تک بیان ریکارڈ کرنے کی مہلت دی گئی۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین و معطل کرنے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں سنگین غداری کی درخواست دائر کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے 5 الزامات عائد کیے تھے لیکن عدالت جکی متعدد سماعتوں میں وہ پیش بھی نہیں ہوئے، بعد ازاں بیماری کو جواز بناتے ہوئے ملک سے باہر چلے گئے تھے اور واپس وطن نہیں لوٹے۔ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے رواں سال 19 نومبر 2019 کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 28 نومبر کو سنایا جانا تھا۔ تاہم مذکورہ فیصلے کو روکنے کے خلاف پرویز مشرف نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔
ساتھ ہی وفاقی حکومت نے بھی خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے باز رکھنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کی گزشتہ روز ہونے والی سماعت پر عدالت نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا البتہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close