وزیر اعظم صاحب، آپ طلبہ کو کیا سمجھتے ہیں؟

تحریر: نزہت نثار

طلبہ سے یکجہتی کے لیے منعقد کیا جانے والا یہ مارچ، کسی ایک کالج یا جامعہ کے مسائل کا پرچار کرنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی آواز ہے۔
اگر آپ کے گھر سے ایک بچہ بھی تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے نکلتا ہے اور پڑھ لکھ رہا ہے، بھلے یہ تعلیم سکول اور مدرسے میں ہو یا کالج اور یونیورسٹی میں، تو یقین جانیے، طلبہ یکجہتی مارچ میں آپ کی شمولیت فرض کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان میں تعلیم اور ترقی کی بات تو بہت کی جاتی ہے مگر جب ذکر ہو طلبہ کے حقوق اور ان کے مسائل کا حل پیش کرنے کی، تب ریاست اور ریاستی عناصر جن کی تعداد روز افزوں بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس آواز کو دبانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ارے میں کہتی ہوں جتنی طاقت طلبہ کی آواز کو دبانے کے لیے لگا رہے ہو، اتنی طاقت اگر حل تلاش کرنے میں لگا لیتے یا محض سن ہی لیتے کہ یہ کہہ کیا رہے ہیں تو ملک و قوم کا بھلا ہو جاتا۔ بھول گئے قوم کے معمار یہی نوجوان طلبہ ہیں۔ ان کی مشکل قوم کی مشکل ہے اور ان کی ترقی قوم کی ترقی ہے۔
الیکشن 2018 کے مناظر ابھی اتنے پرانے نہیں ہوئے کہ یادداشت سے دھندلا جائیں۔ اُس وقت جہاں مختلف نوعیت کے الیکشن اشتہارات عام تھے، وہیں ایک تصویر جو کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تصویری کولاج پر مبنی تھی، بڑی تواتر سے سوشل میڈیا پر گردش کیا کرتی تھی۔
اس تصویر کا مقصد غالباً یہ دکھانا تھا کہ عمران خان، بانی وطن قائد اعظم کا پرتو ہیں۔ تصویر میں قائد کا عکس عمران خان کے آدھے چہرے کے عکس سے مل جاتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس تصویر میں مماثلت نظر آنے لگی ہے۔ ویسے ان کے خیالات اور ان کے نظریات بھی ایک ہی ہیں۔ آج طلبہ مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور مشقت اور تکلیف سے اپنے مسائل کا اظہار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
میں سوچتی ہوں اگر قائد کے ساتھ وزیر اعظم کی مماثلت ہے تو طلبہ کو قوم کو معمار اور اپنا سمجھنے والے قائد اعظم کی ذہانت اور عظیم قیادت کا انداز، جناب وزیر اعظم میں کہاں ہے؟
وہ طلبہ کو سمجھتے کیا ہیں اور کیوں قائد اعظم کی طرح طلبہ کو سب سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے؟ کیا ان کو پچھلے ایک سال میں کسی ایک یونیورسٹی یا کالج کا مسئلہ سننے کو نہیں ملا؟ وزیر اعظم صاحب، کیا آپ نے نہیں سنا کہ نارتھ ناظم آباد میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں طلبہ کئی کئی دن گھر بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ کالج، اساتذہ کی ہڑتال کی وجہ سے بند ہوتا ہے۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ سندھ یونیورسٹی کے طلبہ پر صاف پانی مانگنے پر مقدمہ دائر کر دیا گیا؟
کیا آپ نے فیض میلے کے اطراف اپنی بنیادی ضرورتوں کا مطالبہ کرنے کے لیے انقلاب کے گیت گانے والے طلبہ کا گیت بھی نہیں سنا؟ یا آپ بھی سب کی طرح چند منٹ کی ویڈیو میں بس لیدر جیکٹ کی قیمت کا اندازہ لگاتے اور چہرے مہرے دیکھتے رہ گئے اور یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ جانے یہ طلبہ کن مشکلوں کا شکار ہوں گے کہ بنیادی ضروریات کے لیے انقلاب کا نعرہ بلند کیا۔ یا آپ یہ سمجھے کہ نارتھ ناظم آباد کا کالج شہری حکومت کا مسئلہ ہے، سندھ یونیورسٹی، صوبائی حکومت کے سر کا درد ہے اور فیض میلے کے باہر جمع ہونے والے طلبہ تھیٹر پریکٹس کر رہے تھے۔
اگر آپ بھی ایک مخصوص مگر عام ذہنیت کے طبقے کی طرح سوچ رہے ہیں تو پھر آپ قائد اعظم کا پرتو کیوں کر ہوئے؟ قائد اعظم کا پرتو طلبہ ہیں، ان کی تصاویر کا قائد اعظم کی تصاویر کے ساتھ کولاج بننا چاہیے، کیونکہ وہی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے مخصوص قائدانہ انداز کی پیروی کر رہے ہیں۔
یہ طلبہ ہی ہیں جو قائد اعظم کے پیروکار ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور اپنے مسائل کا اظہار کرنے کے لیے قلم کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہیں نہ کل روکا جا سکا تھا اور نہ آج روکا جا سکتا ہے۔ یہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، وہ حق جو پاکستان کے ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے بہترین موقع فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر محدود سوچ کا حامل محدود طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لیے انقلاب برپا نہیں کیے جاتے تو یہ واضح کیے دیتے ہیں کہ پھر بنیادی ضرورتوں کا مطالبہ کرنے والوں پر بغاوت کے مقدمے بھی دائر نہیں کیے جاتے۔ یہ مارچ ایک روشن قدم ہے، ایک روشن امید ہے، ایسی امید جو بتاتی ہے کہ پاکستان میں تعلیمی مسائل کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باوجود، طلبہ ہمت نہیں ہارے بلکہ اپنے حقوق اور اپنی تعلیم کے لیے کوشاں ہیں۔
البتہ دل اداس ہے کہ وہ طلبہ جنہیں دن رات صرف اپنی تعلیم اور تعلیمی کامیابیوں کی فکر کرنی تھی وہ مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی ضرورت اور انسانی حقوق کے لیے برسر پیکار ہیں۔ کسی بھی جامعہ یا کالج سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے حال پوچھیے، کبھی حل نہ ہونے والے مسائل، ان کے تعلیمی کورس کا حصہ بنے نظر آئیں گے۔ مسائل بھی ایسے کہ سنو تو حیرانی ہو، تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی فیسیں، جس پر آئے دن احکامات جاری کیے جاتے ہیں مگر ان فیسوں کو قابو کرنا فیصلہ سازوں کے لیے ممکن نہیں۔ اساتذہ کی قلیل تنخواہ اور اس پر ستم یہ کہ کئی کئی ماہ ادائیگی نہ ہوئی اور کئی احتجاج، ہڑتالوں کے بعد تنخواہ کا کچھ حصہ ملا تو پڑھائی پھر شروع ہوگئی، مگر ہر دوسرے ہفتے ہونے والی ہڑتالوں کا خمیازہ طلبہ نے بھگتا۔
ایک طرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے، دوسری طرف ان کے اعتماد اور ان کے حوصلے کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، جائیں تو کہاں جائیں؟ کون ہے جوطلبہ کی آواز سنے؟ ان کے مسائل حل کرنے کی جانب قدم بڑھائے، کبھی احتجاج، کبھی دھرنے، کبھی ہڑتال اور کبھی جبری چُھٹی، پاکستان میں طلبہ کی زندگی آسان نہیں۔
ان کی زندگی آسان بنانے کے لیے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا اور حل تلاش کرنے کے لیے مسائل کو سننا ضروری ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پوچھوں ہے کوئی جو کھلے دل اور کھلے دماغ سے ان کی بات سن سکے؟ وزیر اعظم صاحب، صرف احساس سکیم کا افتتاح پاکستانی طلبہ کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں، یہ جاننے کی کوشش بھی کیجیے کہ موجودہ مسائل کیا ہیں، فیس واپسی کی سکیم بند کرنے سے کون سے طلبہ متاثر ہو رہے ہیں، نیشنل لائسنسنگ امتحان کے دور رس نتائج کیا ہوں گے؟ تعلیم کا شعبہ باتوں اور وعدوں کا نہیں بلکہ یہاں دور اندیش حکمت عملی ہی کام آتی ہے۔
29 نومبر 2019 کو کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، گھوٹکی، جامشورو، لاڑکانہ، مظفر آباد، راولا کوٹ میں طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ’طلبہ یکجہتی مارچ‘ ہو رہا ہے، جس میں پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ حصہ لیں گے اور مفت تعلیم سب کے لیے، طلبہ یونین اور فعال جنسی ہراسانی کمیٹی کے قیام اور سیاسی تنظیموں سے وابستگی پرعائد پابندی کو ختم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے جائیں گے۔

بشکریہ: انڈیپینڈنٹ اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close