’’کوک سٹوڈیو جیسے 10 اور پلیٹ فارم ہونے چاہئیں‘‘

کوک سٹوڈیو میں ’’ڈاچی والیا‘‘ گانا گانے والی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس نیا کام کرنے کے انتہائی محدود مواقع ہیں اور ایسا ہی ایک پلیٹ فارم کوک سٹوڈیو ہے ، میری خواہش ہے کہ کوک سٹوڈیو جیسے دس اور پلیٹ فارم ہوں جس میں نیا اور پرانا ٹیلنٹ آئے اور سب مل کر کام کریں۔
بی بی سی کو اپنے انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان گلوکاروں کو سامنے آنے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں اور یہاں المیہ یہ ہے کہ ریکارڈ لیبلز کا تصور ہی نہیں ہے ، گلوکاروں اور موسیقاروں کے لیے ریکارڈ لیبل کی اہمیت ایک چھت جیسی ہے ، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے معاشی سپورٹ ملتی ہے ، نئے ٹیلنٹ اور یہاں تک کے ہمارے جیسے سنگرز کے پاس کوئی ایسی چھت نہیں ہے جہاں جا کر ہم یہ کہہ سکیں۔
حدیقہ نے بتایا کہ کوک سٹوڈیو کے پانچویں سیزن میں انھوں نے ’کملی‘ گانا گایا تھا جو دراصل بابا بلھے شاہ کا کلام تھا ، ان کا مشہور گانا ’بوہے باریاں‘ پڑوسی ملک انڈیا میں کاپی ہوا جس کا انھیں کریڈٹ تک نہیں ملا ، ہمارے یہاں ریکارڈ لیبل اور موسیقی کے جملہ حقوق محفوظ ہونے چاہیں اور ایک ایسی کمپنی ہونی چاہیے جو ہمارے موسیقی سے متعلقہ حقوق کا تحفظ پاکستان میں بھی اور بیرونی ممالک میں بھی کرے۔
آپ کے جذبے بلند ہوں تو آپ کو کوئی مشکل مشکل نہیں لگتی۔ پاکستانی معاشرہ پدرشاہی ہے مگر آپ کو مشکلات صرف اسی وقت روک سکتی ہیں جب آپ کا جذبہ بلند نہ ہو تو۔ میں اپنے گلوکاری کے شوق میں اتنی جنونی اور جذباتی تھی کہ میں نے بڑے بڑے مسائل کا سامنا مگر وہ مسئلے مجھے کبھی مسئلے لگے ہی نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے مستقبل میں کیا ارادے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا آج بھی موسیقی سے عبارت ہے اور آنے والا کل بھی ، میوزک کے ساتھ ساتھ میں بہت سے دیگر کام کر رہی ہوں۔ میں گذشتہ آٹھ برسوں سے بیوٹی سیلون بھی چلا رہی ہوں اور آج ملک کے مختلف شہروں میں اس کی سات فرنچائزز ہیں ، اس کے علاوہ میں ایک کامیڈی شو کی ہوسٹنگ بھی کر رہی ہوں ، اپنے آپ کو دریافت کرنے کا اور سیکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close