پاکستانی خاتون انجینئر نے ہوائی جہاز کا ماحول دوست انجن تیار کرلیا

پاکستانی خاتون انجینئر نے ہوائی جہاز کا ماحول دوست انجن بنا کر ملک کا نام روشن کردیا۔پاکستانی ایرو اسپیس انجینئر سارہ قریشی لندن میں مقیم ہیں جنہوں نے ایرو اسپیس ڈائنامک میں ماسٹرز کی سند لی جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی کران فیلڈ یونیورسٹی سے ایرو اسپیس پوپلژن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔حال ہی میں ڈاکٹر سارہ قریشی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ طویل جدوجہد اور بہت محنت کے بعد انہوں نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ مل کر ایک ’ایرو انجن کرافٹ‘ کمپنی لانچ کی تاکہ وہاں ہوائی جہاز کے ماحول دوست انجن تیار کریں۔
سارہ قریشی کے والد پیشے کے اعتبار سے سائنسدان اور طبعیات دان ہیں۔سارہ قریشی نے اپنی ایرواسپیس کمپنی میں ہوائی جہاز کا ماحول دوست انجن تیار کیا ہے جس میں ایسا پریشر سسٹم موجود ہے جو جہاز کے گرم انجن کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس سسٹم کی مدد سے پانی کے بخارات جہاز کی مشینری کو حدت سے محفوظ رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس کا پانی بارش کے طور پر بھی برسایا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور موسمی تغیرات وہ مسائل ہیں جس سے پوری دنیا نبرد آزما ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا میں اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close