توسیع کے لئے آئینی ترمیم کے بجائے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آیئنی ترمیم کے معاملے پر اپوزیشن کی ممکنہ بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے پہلے مرحلے میں صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے سے نمٹنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم اگر پھر بھی سپریم کورٹ مطمئن نہ ہو سکے تو پھر آئینی ترمیم کے راستے کو اپنایا جائے۔
معلوم ہوا ہے کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے کو حل کرنے کے لئے حکومت نے آئینی ترمیم کے مشکل راستے کے بجائے پاکستان آرمی ایکٹ اور فوجی ضابطوں میں ترمیم کا آسان راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اسے اپوزیشن کی مدد نہ لینی پڑے۔
لہذا اب حکومت چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع، تنخواہ اور مراعات فراہم کرنے کیلئے پاکستان آرمی ایکٹ اور فوجی ضابطوں میں ترمیم کرے گی۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں حکومت کو آئینی ترمیم ہی کرنا پڑے گی اور صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم سے بات نہیں بنے گی۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کے مطابق اس مقصد کیلئے صرف آرمی ایکٹ اور ضابطوں میں تبدیلی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کا حکم سپریم کورٹ نے کب دیا ہے جو کہ مسلح افواج کی کمانڈ سے متعلق ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس آرٹیکل کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ کہ اس کا قانون کی ان خامیوں سے کوئی لینا دینا نہیں جن کی نشاندہی سپریم کورٹ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع پر ہونے والی سماعتوں کے دوران کی تھی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ترامیم کو حتمی شکل دے دی جائے گی اور ہم ان پر غور کیلئے جلد اکٹھے بیٹھیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے نشاندہی کی تھی کہ آئین اور متعلقہ قوانین اور ضابطے آرمی چیف کی توسیع، دوبارہ تقرری، مدت ملازمت، تنخواہ اور مراعات پر خاموش ہیں۔ عدالت نے یہ حکومت اور پارلیمان پر چھوڑدیا تھا کہ وہ اس خلا کو درست کریں اور مستقبل میں الجھن اور بحران جیسی صورتحال سے بچنے کیلئے ابہام کو دور کریں اور آرٹیکل 243 کے دائرہ کار کو واضح کریں۔ اب تک حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مجوزہ ترامیم پر اتفاق رائے کیلئے مذاکرات کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
اٹارنی جنرل کے مطابق اگر حکومت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ترامیم صرف آرمی ایکٹ اور ضابطوں میں جائیں اور آرٹیکل 243 میں نہیں تو سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں انہیں منظور کرنے کیلئے سادہ اکثریت کافی ہوگی تاہم آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے دو تہائی اکثریت ضروری ہوگی۔ یہ واضح ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم جیسی ماتحت قانون سازی کی منظوری کیلئے حکمراں جماعت کی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت ہے لیکن سینیٹ میں مطلوبہ عددی قوت میں کمی ہے جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کا غلبہ ہے۔ اگر کوئی بھی پارلیمانی چیمبر کسی عام بل کو کلیئر نہیں کرتا تو اسے پارلیمان کی مشترکہ بیٹھک کے حوالے کیا جاسکتا ہے جہاں، جیسا کہ دونوں ایوانوں میں مطلوب ہے، اسے تمام قانون سازوں کی اکثریتی حمایت کے ذریعے کلیئر کیا جاسکتا ہے۔ آئینی ترمیم کے معاملے میں دو تہائی اکثریت ضروری ہوگی۔ تاہم آرٹیکل70 عام بلوں کو متعارف کرانے اور پاس کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے اور یہ کہ حاضر ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے اور مشترکہ بیٹھک میں حق رائے دہی سے کوئی ترمیم منظور کی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں کسی بھی سادہ اکثریت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
آرٹیکل 239 آئینی ترامیم سے نمٹتا ہے۔ یہ تین اعتراضات کے ساتھ آرٹیکل 70 جیسا ہے؛ دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت کے بجائے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی؛ عام قانون سازی کے مقابلے پارلیمان میں بھی دو تہائی اکثریت لازمی ہے ؛ اور کوئی آئینی ترمیم جو کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کا اثر رکھتی ہوگی اسے منظوری کیلئےصدر کو پیش نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اس صوبے کی اسمبلی سے اس کی مجموعی رکنیت کے دوتہائی اکثریت کے ووٹوں سے منظور نہ ہو چکا ہو۔
تاہم اپوزیشن ذرائع کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں حکومت کو آئینی ترمیم ہی کرنا پڑے گی اور صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم سے بات نہیں بنے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close